مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: بال کس طرح کترے؟
حدیث نمبر: 2992
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : " أَخَذْتُ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ كَانَ مَعِي بَعْدَ مَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ " , قَالَ قَيْسٌ : وَالنَّاسُ يُنْكِرُونَ هَذَا عَلَى مُعَاوِيَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ذی الحجہ کے پہلے دہے میں بیت اللہ کے طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر چکنے کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کے کناروں کو اپنے پاس موجود ایک تیر کے پھل سے کاٹے ۔ قیس بن سعد کہتے ہیں : لوگ معاویہ پر اس حدیث کی وجہ سے نکیر کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ معاویہ رضی الله عنہ کا وہم ہے، صحیح بات یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں متمتع نہیں تھے، بلکہ قارن تھے، آپ نے مروہ پر نہیں، دسویں ذی الحجہ کو منیٰ میں حلق کروایا تھا معاویہ والا واقعہ غالباً عمرہ جعرانہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2992
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1143)، مسند احمد (4/92) (شاذ)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔