مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: طواف کی دو رکعت پڑھنے کے بعد کیا کہے؟
حدیث نمبر: 2964
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، رَمَلَ مِنْهَا ثَلَاثًا ، وَمَشَى أَرْبَعًا ، ثُمَّ قَامَ عِنْدَ الْمَقَامِ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَرَأَ : وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 , وَرَفَعَ صَوْتَهُ يُسْمِعُ النَّاسَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَاسْتَلَمَ ، ثُمَّ ذَهَبَ ، فَقَالَ : نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا ، فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى بَدَا لَهُ الْبَيْتُ ، فَقَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، فَكَبَّرَ اللَّهَ وَحَمِدَهُ ، ثُمَّ دَعَا بِمَا قُدِّرَ لَهُ ، ثُمَّ نَزَلَ مَاشِيًا حَتَّى تَصَوَّبَتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ ، فَسَعَى حَتَّى صَعِدَتْ قَدَمَاهُ ، ثُمَّ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَصَعِدَ فِيهَا ، ثُمَّ بَدَا لَهُ الْبَيْتُ ، فَقَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، قَالَ : ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ ذَكَرَ اللَّهَ وَسَبَّحَهُ ، وَحَمِدَهُ ، ثُمَّ دَعَا عَلَيْهَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ ، فَعَلَ هَذَا حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوَافِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے سات پھیرے کئے ان میں سے تین میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلے پھر مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر دو رکعات پڑھیں ، پھر آپ نے آیت کریمہ : «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ” مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ “ پڑھی اور اپنی آواز بلند کی آپ لوگوں کو سنا رہے تھے ۔ پھر آپ وہاں سے پلٹے اور جا کر حجر اسود کا استلام کیا اور فرمایا : کہ ہم وہیں ( سعی ) شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے ( اپنی کتاب میں ) شروع کی ہے ، تو آپ نے صفا سے سعی شروع کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ آپ کو بیت اللہ دکھائی دینے لگا تو آپ نے تین مرتبہ «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہا ، پھر آپ نے اللہ کی تکبیر اور تحمید کی ۔ اور دعا کی جواب آپ کے لیے مقدر تھی ، پھر آپ پیدل چل کر نیچے اترے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم وادی کے نشیب میں رہے پھر دوڑے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم بلندی پر چڑھے ، پھر عام چال چلے یہاں تک کہ مروہ کے پاس آئے اور اس پر چڑھے پھر خانہ کعبہ آپ کو دکھائی دینے لگا تو آپ نے «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» تین بار کہا ۔ پھر اللہ کا ذکر کیا اور اس کی تسبیح و تحمید کی ۔ اور دعا کی جو اللہ کو منظور تھی ہر بار ایسا ہی کیا یہاں تک کہ سعی سے فارغ ہوئے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2964
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ الحروف 1 (3969)، سنن الترمذی/الحج 33 (856)، 38 (862)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 56 (1008)، (تحفة الأشراف: 2595)، ویأتي عند المؤلف برقم: 2977 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2965
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا : رَمَلَ ثَلَاثًا ، وَمَشَى أَرْبَعًا ، ثُمَّ قَرَأَ : وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 , فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ ، وَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ ، ثُمَّ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَابْدَءُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف میں کعبہ کے سات پھیرے لگائے ، تین پھیروں میں رمل کیا اور چار پھیروں میں عام چال چلے ، پھر آیت کریمہ : «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی اس کے بعد مقام ابراہیم کو اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان کر کے دو رکعت نماز پڑھی ۔ پھر آپ نے حجر اسود کا استلام کیا پھر نکلے اور آیت کریمہ : «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» ” صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں “ پڑھی تو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ، اسی سے تم بھی شروع کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2965
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر ما قبلہ (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔