مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: طواف کی دونوں رکعتیں کہاں پڑھے؟
حدیث نمبر: 2962
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ سُبُعِهِ جَاءَ حَاشِيَةَ الْمَطَافِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَّافِينَ أَحَد " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مطلب بن ابی وداعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جس وقت آپ طواف کے اپنے سات پھیروں سے فارغ ہوئے ، تو مطاف کے کنارے آئے ، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ، اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کسی طرح کی آڑ نہ تھی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم ۷۵۹۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2962
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (759) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 343
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 759 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ کثیر بن المطلب ‘‘ لین الحدیث ہیں، اس لیے ان کے بیٹے ’’ کثیر بن کثیر‘‘ اپنے باپ کو حذف کر کے کبھی ’’عن بعض أھلہ‘‘ اور کبھی ’’ عمن سمع جدہ ‘‘ کہا کرتے تھے)»
حدیث نمبر: 2963
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَقَالَ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ، تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے لگائے اور مقام ( ابراہیم ) کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں ، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی ، اور فرمایا : «لقد كان لكم في رسول اللہ أسوة حسنة» ” رسول اللہ کی ذات میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے “ ( تو اللہ کا رسول جیسا کچھ کرے ویسے ہی تم بھی کرنا ) ( الأحزاب : ۲۱ ) ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2963
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 2933 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔