مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: حجر اسود کا بوسہ کس طرح لیا جائے؟
حدیث نمبر: 2941
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ طَاوُسًا يَمُرُّ بِالرُّكْنِ ، فَإِنْ وَجَدَ عَلَيْهِ زِحَامًا مَرَّ وَلَمْ يُزَاحِمْ ، وَإِنْ رَآهُ خَالِيًا قَبَّلَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ " , وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّكَ حَجَرٌ لَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ وَلَوْلَا أَنِّي " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ ، مَا قَبَّلْتُكَ " , ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حنظلہ کہتے ہیں کہ` میں نے طاؤس کو دیکھا وہ رکن ( یعنی حجر اسود ) سے گزرتے ، اگر وہاں بھیڑ پاتے تو گزر جاتے کسی سے مزاحمت نہ کرتے ، اور اگر خالی پاتے تو اسے تین بار بوسہ لیتے ، پھر کہتے : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایسا ہی کرتے دیکھا ۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے انہوں نے اسی طرح کیا ، پھر کہا : بلاشبہ تو پتھر ہے ، تو نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان ، اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2941
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد منكر بهذا السياق , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10503) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ ولید ‘‘ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، لیکن میں صرف ’’ تین بار ‘‘ کا لفظ منکر ہے)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔