مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: حج افراد کرنے والے کے طواف کا بیان۔
حدیث نمبر: 2932
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ , عَنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَيَانٌ ، أَنَّ وَبَرَةَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ ؟ قَالَ : وَمَا يَمْنَعُكَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ وَأَنْتَ أَعْجَبُ إِلَيْنَا مِنْهُ ، قَالَ : " رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وبرہ کہتے ہیں کہ` میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا اس حال میں کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے حج کا احرام باندھ رکھا ہے ، تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کروں ؟ تمہیں کیا چیز روک رہی ہے ؟ اس نے کہا : میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس سے روکتے دیکھا ہے ۱؎ ، لیکن آپ ہمیں ان سے زیادہ پسند ہیں انہوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے حج کا احرام باندھا پھر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی ۔
وضاحت:
۱؎: ابن عباس رضی الله عنہما کا کہنا تھا کہ طواف کرنے سے احرام کھولنا ضروری ہو جاتا ہے، لہٰذا جو اپنے احرام پر باقی رہنا چاہے وہ طواف نہ کرے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2932
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الحج 28 (1233)، (تحفة الأشراف: 8555)، مسند احمد (2/6، 56) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔