مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: مریض کس طرح طواف کرے؟
حدیث نمبر: 2928
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَشْتَكِي ، فَقَالَ : " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ ، فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ ، يَقْرَأُ ب : والطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ” لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کر لو “ ، تو میں نے طواف کیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے ، اور آپ «الطور * وكتاب مسطور» پڑھ رہے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2928
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الصلاة 78 (464)، الحج 64 (1619)، 71 (1621)، 74 (1633)، تفسیرالطور 1 (4853)، صحیح مسلم/الحج 42 (1276)، سنن ابی داود/الحج49 (1882)، سنن ابن ماجہ/الحج34 (2961)، (تحفة الأشراف: 18262)، موطا امام مالک/الحج 40 (123)، مسند احمد (6/290، 319) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔