مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: دوران طواف بات چیت کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 2925
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ . ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ رَجُلٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ فَأَقِلُّوا مِنَ الْكَلَامِ " , اللَّفْظُ لِيُوسُفَ خَالَفَهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طاؤس سے روایت ہے کہ` ایک شخص جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ہے ، کہتے ہیں : ” بیت اللہ کا طواف نماز ہے تو ( دوران طواف ) باتیں کم کرو “ ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں ) اس حدیث کے الفاظ یوسف ( یوسف بن سعید ) کے ہیں ۔ حنظلہ بن ابی سفیان نے ان کی یعنی حسن ۱؎ مخالفت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہاں مخالفت سے لفظی مخالفت مراد ہے، معنوی نہیں کیونکہ مبہم اور مفسر میں کوئی تضاد نہیں ہے، حسن نے صحابی کے نام کو مبہم رکھا ہے، اور حنظلہ نے نام کی وضاحت کر دی ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2925
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5694)، مسند احمد (3/414 و4/64 و5/377) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2926
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " أَقِلُّوا الْكَلَامَ فِي الطَّوَافِ ، فَإِنَّمَا أَنْتُمْ فِي الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` طواف کے دوران باتیں کم کرو کیونکہ تم نماز میں ہو ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2926
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوف , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، وانظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔