مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: حطیم میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2915
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ ، فَأُصَلِّيَ فِيهِ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ، فَأَدْخَلَنِي الْحِجْرَ ، فَقَالَ : " إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ ، فَصَلِّي هَا هُنَا ، فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنْ الْبَيْتِ ، وَلَكِنَّ قَوْمَكِ اقْتَصَرُوا حَيْثُ بَنَوْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں چاہتی تھی کہ میں بیت اللہ کے اندر داخل ہوں ، اور اس میں نماز پڑھوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ اور مجھے حطیم کے اندر کر دیا ، پھر فرمایا : ” جب تم بیت اللہ کے اندر جا کر نماز پڑھنا چاہو تو یہاں آ کر پڑھ لیا کرو ، یہ بھی بیت اللہ کا ایک ٹکڑا ہے ۔ لیکن تمہاری قوم نے بناتے وقت اتنا کم کر کے بنایا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ایسا انہوں نے خرچ کی کمی کے باعث کیا تھا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2915
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «سنن ابی داود/الحج 94 (2028)، سنن الترمذی/الحج 48 (876)، (تحفة الأشراف: 17961)، مسند احمد (6/67، 92- 93)، سنن الدارمی/المناسک 44 (1911) (حسن، صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔