حدیث نمبر: 2903
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ , قراءة عليه وأنا أسمع ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام " , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ : " لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ " , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى تَرْكَ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری قوم نے جس وقت کعبہ کو بنایا تو ان لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد میں کمی کر دی “ تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر اسے کیوں نہیں بنا دیتے ؟ آپ نے فرمایا : ” اگر تمہاری قوم زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتی ۱؎ “ ( تو میں ایسا کر ڈالتا ) ۲؎ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اگر عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی بات سنی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حطیم سے قریب کے دونوں رکن ( رکن شامی و عراقی ) کو بوسہ نہ لینے کی وجہ یہی ہے کہ خانہ کعبہ کی ( اس جانب سے ) ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تکمیل نہیں ہوئی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اگر وہ نئے نئے مسلمان نہ ہوئے ہوتے۔ ۲؎: یعنی اسے گرا کر کے ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر اس کی تعمیر کر دیتا لیکن چونکہ ابھی اسلام ان کے دلوں میں پوری طرح راسخ نہیں ہوا ہے اس لیے ایسا کرنے سے ڈر ہے کہ وہ اسلام سے متنفر نہ ہو جائیں، اور اسے غلط اقدام سمجھیں۔
حدیث نمبر: 2904
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ ، لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ فَبَنَيْتُهُ عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، وَجَعَلْتُ لَهُ خَلْفًا ، فَإِنَّ قُرَيْشًا لَمَّا بَنَتْ الْبَيْتَ اسْتَقْصَرَتْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو ڈھا دیتا ، اور اسے ( پھر سے ) ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تعمیر کرتا ، اور سامنے کے مقابل میں پیچھے بھی ایک دروازہ کر دیتا ، قریش نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر کی تو اسے گھٹا دیا “ ۔
حدیث نمبر: 2905
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، أَنَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْلَا أَنَّ قَوْمِي وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدٍ : قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ " , فَلَمَّا مَلَكَ ابْنُ الزُّبَيْرِ جَعَلَ لَهَا بَابَيْنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ( عائشہ ) رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میری قوم ( اور محمد بن عبدالاعلی کی روایت میں تیری قوم ) جاہلیت کے زمانہ سے قریب نہ ہوتی تو میں کعبہ کو ڈھا دیتا اور اس میں دو دروازے کر دیتا “ ، تو جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما وہاں کے حکمراں ہوئے تو انہوں نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کے مطابق ) کعبہ میں دو دروازے کر دئیے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: لیکن عبدالملک بن مروان کے عہد خلافت میں حجاج بن یوسف نے اس دوسرے دروازے کو بند کر دیا۔
حدیث نمبر: 2906
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهَا : يَا عَائِشَةُ , " لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ ، لَأَمَرْتُ بِالْبَيْتِ فَهُدِمَ ، فَأَدْخَلْتُ فِيهِ مَا أُخْرِجَ مِنْهُ ، وَأَلْزَقْتُهُ بِالْأَرْضِ ، وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ : بَابًا شَرْقِيًّا ، وَبَابًا غَرْبِيًّا ، فَإِنَّهُمْ قَدْ عَجَزُوا عَنْ بِنَائِهِ ، فَبَلَغْتُ بِهِ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام " , قَالَ : فَذَلِكَ الَّذِي حَمَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى هَدْمِهِ ، قَالَ يَزِيدُ : وَقَدْ شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ هَدَمَهُ ، وَبَنَاهُ ، وَأَدْخَلَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ ، وَقَدْ رَأَيْتُ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام حِجَارَةً كَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ مُتَلَاحِكَةً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اگر تیری قوم کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا دیے جانے کا حکم دیتا ، اور جو حصہ اس سے نکال دیا گیا ہے اسے اس میں داخل کر دیتا ، اور اسے زمین کے برابر کر دیتا ، اور اس میں دو دروازے بنا دیتا ، ایک دروازہ مشرقی جانب اور ایک مغربی جانب ، کیونکہ وہ اس کی تعمیر سے عاجز رہے تو میں اسے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر پہنچا دیتا “ ۔ راوی کہتے ہیں : اسی چیز نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو اسے منہدم کرنے پر آمادہ کیا ۔ یزید ( راوی حدیث ) کہتے ہیں : میں موجود تھا جس وقت ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے گرا کر دوبارہ بنایا ، اور حطیم کو اس میں شامل کیا ۔ اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد کے پتھر دیکھے ، وہ پتھر اونٹ کی کوہان کی طرح تھے ، ایک دوسرے میں پیوست ۔
حدیث نمبر: 2907
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنْ الْحَبَشَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خانہ کعبہ کو دو چھوٹی پنڈلیوں والے حبشی ویران کریں گے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ قیامت کے قریب ہو گا، جب روئے زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا باقی نہ رہے گا۔