حدیث نمبر: 2858
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ ، فَأَقْعَصَهُ أَوْ قَالَ : فَأَقْعَصَتْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص عرفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا تھا کہ وہ اپنی سواری سے گر گیا اور اس کی اونٹنی نے اسے کچل کر ہلاک کر دیا ۔ ( راوی کو شک ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «فأقعصه» ( مذکر کے صیغہ کے ساتھ ) کہا یا «فأقعصته» ( مونث کے صیغہ کے ساتھ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو ، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو ، نہ اسے خوشبو لگاؤ ، اور نہ اس کے سر کو ڈھانپو ، اس لیے کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھائے گا “ ۔
حدیث نمبر: 2859
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وَقَصَتْ رَجُلًا مُحْرِمًا نَاقَتُهُ ، فَقَتَلَتْهُ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اغْسِلُوهُ ، وَكَفِّنُوهُ ، وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک محرم شخص کو اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور اسے ہلاک کر دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اسے نہلاؤ ، اور کفناؤ ، ( لیکن ) اس کا سر نہ ڈھانپنا اور نہ اسے خوشبو لگانا کیونکہ وہ ( قیامت کے دن ) لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا “ ۔