مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: محرم جب مر جائے تو کتنے کپڑوں میں کفنا دیا جائے۔
حدیث نمبر: 2857
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا مُحْرِمًا صُرِعَ عَنْ نَاقَتِهِ فَأُوقِصَ ، ذُكِرَ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : عَلَى إِثْرِهِ خَارِجًا رَأْسُهُ ، قَالَ : وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " , قَالَ شُعْبَةُ : فَسَأَلْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ ، فَجَاءَ بِالْحَدِيثِ كَمَا كَانَ يَجِيءُ بِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَلَا تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` ایک محرم اپنی اونٹنی سے گر گیا ، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی ، ذکر کیا گیا کہ وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو ، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو “ ، اس کے بعد یہ بھی فرمایا : ” اس کا سر کفن سے باہر رہے “ ، فرمایا : ” اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا “ ۔ شعبہ ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں : میں نے ان سے ( یعنی اپنے استاد ابوبشر سے ) دس سال بعد پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے کی تھی البتہ انہوں نے ( اس بار اتنا مزید ) کہا کہ ” اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2857
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 2714 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔