مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: جب محرم شکار کو دیکھ کر ہنسے اور غیر محرم تاڑ جائے اور شکار کر ڈالے تو کیا محرم اسے کھائے یا نہ کھائے؟
حدیث نمبر: 2827
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : انْطَلَقَ أَبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ ، فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِي ضَحِكَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ فَطَعَنْتُهُ ، فَاسْتَعَنْتُهُمْ ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي ، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ ، وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ ، فَطَلَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَفِّعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا ، فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقُلْتُ : أَيْنَ تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : تَرَكْتُهُ وَهُوَ قَائِلٌ بِالسُّقْيَا ، فَلَحِقْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ ، فَانْتَظِرْهُمْ ، فَانْتَظَرَهُمْ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَعِنْدِي مِنْهُ ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ : " كُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن ابی قتادہ کہتے ہیں کہ` میرے والد صلح حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے تو ان کے ساتھیوں نے احرام باندھ لیا لیکن انہوں نے نہیں باندھا ، ( ان کا بیان ہے ) کہ میں اپنے اصحاب کے ساتھ تھا کہ اسی دوران ہمارے اصحاب ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسے ، میں نے نظر اٹھائی تو اچانک ایک نیل گائے مجھے دکھائی پڑا ، میں نے اسے نیزہ مارا اور ( اسے پکڑنے اور ذبح کرنے کے لیے ) ان سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کیا پھر ہم سب نے اس کا گوشت کھایا ، اور ہمیں ڈر ہوا کہ ہم کہیں لوٹ نہ لیے جائیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ پکڑنا چاہا کبھی میں اپنا گھوڑا تیز بھگاتا اور کبھی عام رفتار سے چلتا تو میری ملاقات کافی رات گئے قبیلہ غفار کے ایک شخص سے ہوئی میں نے اس سے پوچھا : تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں چھوڑا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے آپ کو مقام سقیا میں قیلولہ کرتے ہوئے چھوڑا ہے ، چنانچہ میں جا کر آپ سے مل گیا ، اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کے صحابہ آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور آپ کے لیے اللہ کی رحمت کی دعا کرتے ہیں اور وہ ڈر رہے ہیں کہ وہ کہیں آپ سے پیچھے رہ جانے پر لوٹ نہ لیے جائیں ، تو آپ ذرا ٹھہر کر ان کا انتظار کر لیجئیے تو آپ نے ان کا انتظار کیا ۔ پھر میں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( راستے میں ) میں نے ایک نیل گائے کا شکار کیا اور میرے پاس اس کا کچھ گوشت موجود ہے ، تو آپ نے لوگوں سے کہا : ” کھاؤ “ اور وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2827
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/جزاء الصید 2 (1821)، 3 (1822)، صحیح مسلم/الحج 8 (1196)، سنن ابن ماجہ/الحج 93 (3093)، (تحفة الأشراف: 12109)، مسند احمد (5/301، 304)، سنن الدارمی/المناسک 22 (1867) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2828
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ النَّسَائِيُّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْحُدَيْبِيَةِ ، قَالَ : فَأَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ غَيْرِي ، فَاصْطَدْتُ حِمَارَ وَحْشٍ ، فَأَطْعَمْتُ أَصْحَابِي مِنْهُ وَهُمْ مُحْرِمُونَ ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْبَأْتُهُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْ لَحْمِهِ فَاضِلَةً ، فَقَالَ : " كُلُوهُ وَهُمْ مُحْرِمُونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` وہ غزوہ حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ، وہ کہتے ہیں کہ میرے علاوہ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھ رکھا ہے تھا ۔ تو میں نے ( راستہ میں ) ایک نیل گائے کا شکار کیا اور اس کا گوشت اپنے ساتھیوں کو کھلایا ، اور وہ محرم تھے ، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو میں نے بتایا کہ ہمارے پاس اس کا کچھ گوشت بچا ہوا ہے ، تو آپ نے ( لوگوں سے ) فرمایا : ” کھاؤ “ ، اور وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2828
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 2827 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔