مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: اونٹوں کے گلے کا ہار بٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2777
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهْدِي مِنْ الْمَدِينَةِ ، فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِهِ ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی ( قربانی کے جانور ) بھیجتے تھے تو میں آپ کی ہدی کے ہار بٹتی تھی پھر آپ ان چیزوں میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ کرتے تھے جن چیزوں سے محرم اجتناب کرتا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس لیے کہ محض ہدی بھیجنے سے آدمی محرم نہیں ہوتا جب تک کہ وہ خود ہدی کے ساتھ نہ جائے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2777
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج 106 (1698)، 107 (1699)، 108 (1700)، 109 (1702)، 110 (1703)، الوکالة 14 (2317)، الأضاحي 15 (5566)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن ابی داود/الحج 17 (1758)، سنن الترمذی/الحج 70 (909)، سنن ابن ماجہ/الحج 94 (1094)، (تحفة الأشراف: 16582، 17923)، مسند احمد (6/35، 36، 78، 82، 85، 91، 102، 127، 174، 180، 185، 190، 191، 200، 208، 213، 216، 218، 225، 236، 253، 262) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2778
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَبْعَثُ بِهَا ، ثُمَّ يَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے ہار ( قلادے ) بٹا کرتی تھی ، آپ انہیں پہنا کر بھیجتے پھر آپ وہ سب کرتے جو غیر محرم کرتا ہے اس سے پہلے کہ ہدی اپنے مقام پر ( یعنی قربان گاہ پر ) پہنچے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2778
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17530)، مسند احمد (6/183، 238) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2779
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل , قَالَ : حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنْ كُنْتُ لَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يُقِيمُ وَلَا يُحْرِمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار ( قلادے ) بٹتی تھی ، پھر آپ مقیم ہوتے اور احرام نہیں باندھتے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی آپ خود احرام کو نہیں بلکہ حج مر جانے والے کسی حاجی کے ساتھ ہدی بھیج دیتے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2779
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج 111 (1704)، الأضاحي 15 (5566)، صحیح مسلم/الحج 64 (1312)، (تحفة الأشراف: 17616)، مسند احمد (6/30، 35، 127، 190، 191، 208)، سنن الدارمی/المناسک 86 (1979) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2780
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّعِيفُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا ، ثُمَّ يُقِيمُ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے ہار ( قلادے ) بٹتی تھی ، آپ اسے اپنے ہدی کے جانور کو پہناتے تھے پھر اسے روانہ فرماتے تھے ۔ اور آپ خود مقیم رہتے ، اور جن چیزوں سے محرم بچتا ہے ان چیزوں سے آپ نہیں بچتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2780
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج 119 (1702)، صحیح مسلم/الحج 14 (1321)، سنن ابن ماجہ/الحج 94 (3095)، (تحفة الأشراف: 15947)، مسند احمد (6/233) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2781
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْغَنَمِ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَمْكُثُ حَلَالًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے ہار ( قلادے ) بٹا کرتی تھی پھر آپ حلال ( غیر محرم ) ہی رہتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2781
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج 110 (1703)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن الترمذی/الحج 70 (909)، (تحفة الأشراف: 15985)، مسند احمد (6/91، 174، 191، 253، 262)، ویأتي عند المؤلف: 2787، 2791، 2799) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔