مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: جو شخص حج سے روک دیا گیا ہو، اور اس نے شرط نہ لگائی ہو تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 2770
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُنْكِرُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَيَقُولُ : " أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ، حَتَّى يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا وَيُهْدِي وَيَصُومُ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج میں شرط لگانا پسند نہیں کرتے تھے ، اور کہتے تھے : کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت کافی نہیں ؟ اگر تم میں سے کوئی حج سے روک دیا گیا ہو تو ( اگر ممکن ہو تو ) کعبے کا طواف ، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لے ، پھر ہر چیز سے حلال ہو جائے ، یہاں تک کہ آنے والے سال میں حج کرے اور ہدی دے ، اور اگر ہدی میسر نہ ہو تو روزہ رکھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2770
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
حدیث تخریج «صحیح البخاری/المحصر2 (1810)، (تحفة الأشراف: 6997) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2771
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَيَقُولُ : " مَا حَسْبُكُمْ سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَمْ يَشْتَرِطْ ، فَإِنْ حَبَسَ أَحَدَكُمْ حَابِسٌ ، فَلْيَأْتِ الْبَيْتَ ، فَلْيَطُفْ بِهِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ لِيَحْلِقْ أَوْ يُقَصِّرْ ، ثُمَّ لِيُحْلِلْ ، وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج میں شرط لگانا ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے : کیا تمہارے لیے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کافی نہیں ہے کہ آپ نے ( کبھی ) شرط نہیں لگائی ۔ اگر تم میں سے کسی کو کوئی روکنے والی چیز روک دے تو اگر ممکن ہو سکے تو بیت اللہ کا طواف کرے ، اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرے ، پھر سر منڈوائے یا کتروائے پھر احرام کھول دے اور اس پر آئیندہ سال کا حج ہو گا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2771
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «صحیح البخاری/المحصر 2 (1810م)، سنن الترمذی/الحج 98 (942)، (تحفة الأشراف: 6937)، مسند احمد (2/33) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔