مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: تلبیہ کب پکاریں؟
حدیث نمبر: 2755
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَهَلَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد تلبیہ پکارنا شروع کیا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2755
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (819) خصيف: ليس بالقوي،كما قال النسائي فى كتاب الضعفاء و المتروكين (177) وضعفه الجمهور (انظر سنن أبى داود بتحقيقي: 266) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 342
حدیث تخریج «سنن الترمذی/الحج 9 (819)، (تحفة الأشراف: 5502)، مسند احمد (1/285، سنن الدارمی/المناسک 12 (1847) (ضعیف)»
حدیث نمبر: 2756
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَشْعَثُ , عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ بِالْبَيْدَاءِ ، ثُمَّ رَكِبَ وَصَعِدَ جَبَلَ الْبَيْدَاءِ ، وَأَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیداء میں ظہر کی نماز پڑھی پھر سوار ہوئے اور بیداء کے پہاڑ پر چڑھے ، اور حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارا جس وقت ظہر پڑھ لی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2756
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (2663) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 342
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 2663 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2757
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، " فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ صَلَّى وَهُوَ صَامِتٌ ، حَتَّى أَتَى الْبَيْدَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے سلسلے میں جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` جب آپ ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے ( ظہر کی ) نماز پڑھی ، اور آپ خاموش رہے یہاں تک کہ بیداء آئے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2757
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2619) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2758
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ : بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سالم سے روایت ہے کہ` انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا : تمہارا یہ بیداء وہی ہے جس کے تعلق سے تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط بات منسوب کرتے ہو ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بیداء سے نہیں ) ذوالحلیفہ کی مسجد ہی سے تلبیہ پکارا ہے ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: واقع کے خلاف خبر دینے کو جھوٹ کہتے ہیں، خواہ یہ عمداً ہو یا کسی غلط فہمی اور سہو کی وجہ سے ہو، ابن عمر رضی الله عنہما نے انہیں جھوٹا اس اعتبار سے کہا ہے کہ انہیں غلط فہمی ہوئی ہے نہ اس اعتبار سے کہ انہوں نے عمداً جھوٹ کہا ہے۔ ۲؎: اس مسئلہ میں صحابہ میں اختلاف ہے بعض کا کہنا ہے کہ آپ نے احرام ذو الحلیفہ میں احرام کی دونوں رکعتوں کے پڑھنے کے بعد مسجد میں ہی تلبیہ پکارنا شروع کیا تھا اور بعض کا کہنا ہے کہ جس وقت آپ سواری پر سیدھے بیٹھے اس وقت آپ نے تلبیہ پکارا، اور بعض کا کہنا ہے کہ سواری جس وقت آپ کو لے کر کھڑی ہوئی اس وقت آپ نے تلبیہ پکارنا شروع کیا، اس اختلاف کی وجہ ہے کہ لوگ مختلف وقتوں میں الگ الگ مختلف ٹکڑوں میں آپ کے پاس آ رہے تھے تو لوگوں نے جہاں آپ کو تلبیہ پکارتے سنا یہی سمجھا کہ آپ نے یہیں سے تلبیہ شروع کیا ہے، حالانکہ آپ نے تلبیہ پکارنے کی شروعات وہیں کر دی تھی جہاں آپ نے احرام کی دونوں رکعتیں پڑھی تھیں، پھر جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے تلبیہ پکارا، پھر بیداء کی اونچائی پر چڑھتے وقت آپ نے تلبیہ پکارا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2758
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج20 (1541)، صحیح مسلم/الحج4 (1186)، سنن ابی داود/الحج21 (1771)، سنن الترمذی/الحج8 (818)، (تحفة الأشراف: 7020)، موطا امام مالک/الحج 9 (30)، مسند احمد (2/10، 28، 66، 85، 111، 154) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2759
أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ يُهِلُّ حِينَ تَسْتَوِي بِهِ قَائِمَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوتے دیکھا ، پھر جب اونٹنی ( آپ کو لے کر ) پورے طور پر کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پکارا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2759
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج 2 (1514)، 28 (1552)، 29 (1553)، صحیح مسلم/الحج 3 (1184)، (تحفة الأشراف: 6980)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج 14 (2916)، موطا امام مالک/الحج 9 (32) (موقوفاً)، مسند احمد (2/17، 18، 29، 36، 37) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2760
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ . ح وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` وہ بتا رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا جس وقت آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی ہوئی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2760
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج 28 (1552)، صحیح مسلم/الحج 5 (1187)، (تحفة الأشراف: 7680)، 82 (1970)، مسند احمد 2/36، سنن الدارمی/المناسک 82 (1970) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2761
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَابْنِ جُرَيْجٍ ، وَابْنِ إِسْحَاقَ ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : رَأَيْتُكَ تُهِلُّ إِذَا اسْتَوَتْ بِكَ نَاقَتُكَ ؟ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُهِلُّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ وَانْبَعَثَتْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبید بن جریج کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں آپ کو دیکھا کہ جب اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی ہے تو آپ نے اس وقت تلبیہ پکارا ، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت تلبیہ پکارا تھا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تھی ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2761
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الوضوء 30 (166)، اللباس 37 (5851)، صحیح مسلم/الحج 5 (1187)، دالحج 21 (1772)، سنن ابن ماجہ/اللباس 34 (3626)، (تحفة الأشراف: 7316)، سنن الترمذی/الشمائل 10 (74)، موطا امام مالک/الحج 9 (31)، مسند احمد (2/، 17)، وراجع رقم117، وما یأتي برقم: 2953، 5245) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔