مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: احرام میں پاجامہ (شلوار) پہننے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2671
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا ؟ قَالَ : " لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ , وَقَالَ عَمْرٌو مَرَّةً أُخْرَى : الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ ، وَلَا الْخُفَّيْنِ ، إِلَّا أَنْ لَا يَكُونَ لِأَحَدِكُمْ نَعْلَانِ فَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جب ہم احرام باندھ لیں تو کون سے کپڑے پہنیں ؟ آپ نے فرمایا : ” نہ قمیص پہنو ، ( عمرو بن علی نے دوسری بار قمیص کے بجائے جمع کے صیغے کے ساتھ قمص کہا ) نہ عمامے ، نہ پائجامے اور نہ موزے ، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو موزوں کو کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے ، اور نہ ایسا کپڑا جس میں ورس اور زعفران لگی ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2671
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8215)، مسند احمد (2/54) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔