مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: احرام میں جبہ پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2669
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَوْمَسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ ، فَبَيْنَا نَحْنُ بِالْجِعِرَّانَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ ، فَأَتَاهُ الْوَحْيُ ، فَأَشَارَ إِلَيَّ عُمَرُ أَنْ تَعَالَ ، فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي الْقُبَّةَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ قَدْ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ بِعُمْرَةٍ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ قَدْ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ إِذْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغِطُّ لِذَلِكَ فَسُرِّيَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " أَيْنَ الرَّجُلُ الَّذِي سَأَلَنِي آنِفًا ؟ " فَأُتِيَ بِالرَّجُلِ ، فَقَالَ : " أَمَّا الْجُبَّةُ فَاخْلَعْهَا ، وَأَمَّا الطِّيبُ فَاغْسِلْهُ ، ثُمَّ أَحْدِثْ إِحْرَامًا " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : " ثُمَّ أَحْدِثْ إِحْرَامًا " مَا أَعْلَمُ أَحَدًا قَالَهُ غَيْرَ نُوحِ بْنِ حَبِيبٍ وَلَا أَحْسِبُهُ مَحْفُوظًا وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں :` کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتے ہوئے دیکھتا ، پھر اتفاق ایسا ہوا کہ ہم جعرانہ میں تھے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تھے کہ آپ پر وحی نازل ہونے لگی ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اشارہ کیا کہ آؤ دیکھ لو ۔ میں نے اپنا سر خیمہ میں داخل کیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا ہوا ہے وہ جبہ میں عمرہ کا احرام باندھے ہوئے تھا ، اور خوشبو سے لت پت تھا اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس نے جبہ پہنے ہوئے احرام باندھ رکھا ہے کہ یکایک آپ پر وحی اترنے لگی ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خراٹے لینے لگے ۔ پھر آپ کی یہ کیفیت جاتی رہی ، تو آپ نے فرمایا : ” وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی مجھ سے ( مسئلہ ) پوچھا تھا “ تو وہ شخص حاضر کیا گیا ، آپ نے ( اس سے ) فرمایا : ” رہا جبہ تو اسے اتار ڈالو ، اور رہی خوشبو تو اسے دھو ڈالو پھر نئے سرے سے احرام باندھو ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں کہ ” نئے سرے سے احرام باندھ “ کا یہ فقرہ نوح بن حبیب کے سوا کسی اور نے روایت کیا ہو یہ میرے علم میں نہیں اور میں اسے محفوظ نہیں سمجھتا ، واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ۔
وضاحت:
۱؎: جعرانہ مکہ کے قریب ایک جگہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2669
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله ثم أحدث إحراما فإنه شاذ والمحفوظ دونها , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج 17 (1536)، تعلیقا، العمرة 10 (1789)، جزاء الصید 19 (1847)، المغازی56 (4329)، فضائل القرآن 2 (4985)، صحیح مسلم/الحج 1 (1180)، سنن ابی داود/الحج 31 (1819-1822)، سنن الترمذی/الحج 20 (835) مختصرا، (تحفة الأشراف: 11836)، مسند احمد (4/224) ویأتی عند المؤلف فی44 (برقم2710، 2711) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔