مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: مُحرِم کے غسل کا بیان۔
حدیث نمبر: 2666
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّهُمَا اخْتَلَفَا بِالأَبْوَاءِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ : لَا يَغْسِلُ رَأْسَهُ ، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيِ الْبِئْرِ ، وَهُوَ مُسْتَتِرٌ بِثَوْبٍ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، وَقُلْتُ : أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ ؟ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا رَأْسُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ، وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ` ان دونوں کے درمیان مقام ابواء میں ( محرم کے سر دھونے اور نہ دھونے کے بارے میں ) اختلاف ہو گیا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : محرم اپنا سر دھوئے گا اور مسور نے کہا : نہیں دھوئے گا ۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے اس بارے میں سوال کروں ، چنانچہ میں گیا تو وہ مجھے کنویں کی دونوں لکڑیوں کے درمیان غسل کرتے ہوئے ملے اور وہ کپڑے سے پردہ کئے ہوئے تھے ، میں نے انہیں سلام کیا اور کہا : مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں آپ سے سوال کروں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں اپنا سر کس طرح دھوتے تھے ۱؎ ۔ ( یہ سن کر ) ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا ، اور اسے جھکایا یہاں تک کہ ان کا سر دکھائی دینے لگا ، پھر ایک شخص سے جو پانی ڈالتا تھا کہا : سر پر پانی ڈالو ، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو حرکت دی ، ( صورت یہ رہی کہ ) کہ دونوں ہاتھ کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے ، اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ دونوں میں اختلاف غسل کرنے یا نہ کرنے میں تھا نہ کہ کیفیت کے بارے میں پھر انہوں نے ابوایوب رضی الله عنہ سے جا کر غسل کی کیفیت کے بارے کیوں سوال کیا؟ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں نے انہیں دونوں باتیں پوچھنے کے لیے بھیجا تھا لیکن وہاں پہنچ کر جب انہوں نے خود انہی کو حالت احرام میں غسل کرتے دیکھا تو اس سے انہوں نے اس کے جواز کو خودبخود جان لیا اب بچا مسئلہ صرف کیفیت کا تو اس بارے میں انہوں نے پوچھ لیا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2666
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/جزاء الصید14 (1840)، صحیح مسلم/الحج13 (1205)، سنن ابی داود/الحج38 (1840)، سنن ابن ماجہ/الحج22 (3934)، (تحفة الأشراف: 3463) ، مسند احمد 5/416، 418، 421، سنن الدارمی/المناسک 6 (1834) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔