حدیث نمبر: 2663
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَشْعَثُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ ابْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ بِالْبَيْدَاءِ ، ثُمَّ رَكِبَ وَصَعِدَ جَبَلَ الْبَيْدَاءِ ، فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز بیداء میں پڑھی ، پھر سوار ہوئے اور بیداء پہاڑ پر چڑھے ، اور ظہر کی نماز پڑھ کر حج و عمرے کا احرام باندھا ۔
وضاحت:
۱؎: بیداء چٹیل میدان کو کہتے ہیں اور یہاں ذوالحلیفہ کے قریب ایک مخصوص جگہ مراد ہے آگے بھی اس لفظ سے یہی جگہ مراد ہو گی، اور جہاں تک آپ کے بیداء میں ظہر کی نماز پڑھنے کا معاملہ ہے تو کسی راوی سے وہم ہو گیا ہے، انس رضی الله عنہ ہی سے بخاری (کتاب الحج، ۲۷) میں مروی ہے کہ آپ نے ظہر مدینہ میں چار پڑھی اور عصر ذوالحلیفہ میں دو پڑھی، اور نماز کے بعد ہی احرام باندھ لیا، یعنی حج و عمرہ کی نیت کر کے تلبیہ پکارنا شروع کر دیا تھا، اور ہر جگہ پکارتے رہے، اب جس نے جہاں پہلی بار سنا اس نے وہیں سے تلبیہ پکارنے کی روایت کر دی، سنن ابوداؤد (کتاب الحج، ۲۱) میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی مفصل روایت ان تمام اختلافات و اشکالات کو دور کر دیتی ہے۔