مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: عورت کی طرف سے مرد کے حج کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2644
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ ، وَإِنْ حَمَلْتُهَا لَمْ تَسْتَمْسِكْ ، وَإِنْ رَبَطْتُهَا خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : " فَحُجَّ عَنْ أُمِّكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے تو آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری ماں بہت بوڑھی ہو چکی ہیں ، اگر میں انہیں سواری پر چڑھا دوں تو وہ بیٹھی نہیں رہ سکتیں ، اور اگر میں انہیں ( سواری پر بٹھا کر ) باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں ان کی جان نہ لے بیٹھوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا خیال ہے اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے ؟ “ اس نے کہا : جی ہاں ( میں ادا کرتا ) آپ نے فرمایا : ” تو تم اپنی ماں کی جانب سے حج کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2644
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11044)، مسند احمد (1/212)، ویأعند المؤلف برقم: 5396، 5397 (شاذ) (سائل کا عورت ہونا ہی محفوظ بات ہے)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔