مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: حج کی ادائیگی کو قرض کی ادائیگی سے تشبیہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2639
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الرُّكُوبَ وَأَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ فَهَلْ يُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ قَالَ آنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ أَكُنْتَ تَقْضِيه ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَحُجَّ عَنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` قبیلہ خثعم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا : میرے والد بہت بوڑھے ہیں وہ سواری پر چڑھ نہیں سکتے ، اور حج کا فریضہ ان پر عائد ہو چکا ہے ، میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کیا وہ ان کی طرف سے ادا ہو جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” کیا تم ان کے بڑے بیٹے ہو ؟ “ اس نے کہا : جی ہاں ( میں ان کا بڑا بیٹا ہوں ) آپ نے فرمایا : ” تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ( میں ادا کرتا ) آپ نے فرمایا : ” تو تم ان کی طرف سے حج ادا کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2639
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، يوسف بن الزبير: مجهول الحال (التحرير: 7863) لم يوثقه غير ابن حبان. وأصل الحديث صحيح،انظرالحديث السابق (الأصل: 2638) والحديث الآتي (الأصل: 2640) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 342
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5292) ، مسند احمد 4/5، سنن الدارمی/المناسک24 (1878) ویأتي عند المؤلف برقم: 2645) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’ یوسف ‘‘ لین الحدیث ہیں)»
حدیث نمبر: 2640
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ النَّسَائِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ , عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میرے والد انتقال کر گئے اور انہوں نے حج نہیں کیا ، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں ؟ آپ نے فرمایا : ” کیا خیال ہے اگر تمہارے والد پر کچھ قرض ہوتا تو تم ادا کرتے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ( میں ادا کرتا ) تو آپ نے فرمایا : ” تو اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کئے جانے کا زیادہ مستحق ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی روایت میں صحیح بات یہ ہے کہ مسئلہ پوچھنے والی عورت تھی، اور اپنے باپ کے بارے میں پوچھا تھا جو زندہ مگر کمزور تھا، اور اس واقعہ کے وقت یا تو دونوں بھائی (عبداللہ اور فضل) موجود تھے یا فضل نے یہ واقعہ عبداللہ بن عباس سے بیان کیا، روایت کی صحت میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت کے سوا دیگر صحابہ کی روایتوں میں دیگر واقعات بھی اسی طرح کے سوال و جواب کے ممکن ہیں، پوچھنے والے مرد و عورت بھی ہو سکتے ہیں، اور جن کے بارے میں پوچھا گیا وہ بھی مرد و عورت ہو سکتے ہیں، اور یہ کوئی ایسی بات نہیں، جس کو بنیاد بنا کر حدیث کی حجیت کے سلسلے میں شکوک و شبہات پیدا کئے جائیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2640
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6041) (ضعیف الإسناد شاذ) (اس کے راوی ’’محکم‘‘ کو وہم ہو جایا کرتا تھا، اسی لیے انہوں نے پوچھنے والے کو مرد اور جس کے بارے میں پوچھا گیا اس کو عورت بنا دیا ہے)»
حدیث نمبر: 2641
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ هُشَيْمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَإِنْ شَدَدْتُهُ خَشِيتُ أَنْ يَمُوتَ ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ ، أَكَانَ مُجْزِئًا ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : میرے باپ کو ( فریضہ ) حج نے اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اپنی سواری پر ٹک نہیں سکتے ، اگر میں انہیں سواری پر بٹھا کر باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں مر نہ جائیں ۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں ؟ آپ نے فرمایا : ” تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو اسے ادا کرتے ، تو وہ کافی ہو جاتا “ ؟ اس نے کہا : ہاں ( کافی ہو جاتا ) آپ نے فرمایا : ” پھر اپنے باپ کی طرف سے حج کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2641
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ أو منكر بذكر الرجل والمحفوظ أن السائل امرأة , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلنسائي، (تحفة الأشراف: 5657)، انظر حدیث رقم: 2635 (شاذ أومنکر) (اس کے راوی ’’ہشیم ‘‘ کثیر التدلیس ہیں، سائل کا عورت ہونا ہی محفوظ بات ہے)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔