مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: حج نہ کرنے والے میت کی طرف سے حج بدل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2634
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَال : حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ قَالَ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : أَمَرَتِ امْرَأَةٌ سِنَانَ بْنَ سَلَمَةَ الْجُهَنِيَّ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ أُمَّهَا مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ أَفَيُجْزِئُ عَنْ أُمِّهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا ، قَالَ : " نَعَمْ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّهَا دَيْنٌ فَقَضَتْهُ عَنْهَا أَلَمْ يَكُنْ يُجْزِئُ عَنْهَا ؟ فَلْتَحُجَّ عَنْ أُمِّهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک عورت نے سنان بن سلمہ جہنی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں کہ میری ماں مر گئی ہے اور اس نے حج نہیں کیا ہے تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں تو اسے کافی ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، اگر اس کی ماں پر قرض ہوتا اور وہ اس کی جانب سے ادا کرتی تو کیا یہ اس کی طرف سے کافی نہ ہو جاتا ؟ لہٰذا اسے اپنی ماں کی طرف سے حج کرنا چاہیئے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2634
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6505)، مسند احمد (1/279) (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 2635
أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِيهَا مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ ، قَالَ : " حُجِّي عَنْ أَبِيكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے والد کے بارے میں جو مر گئے تھے اور حج نہیں کیا تھا پوچھا : آپ نے فرمایا : ” تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2635
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج1 (1513)، جزاء الصید23 (1854)، 24 (1855)، المغازی77 (4399)، الاستئذان2 (6228)، صحیح مسلم/الحج71 (1334)، سنن ابی داود/الحج26 (1809)، (تحفة الأشراف: 5670)، موطا امام مالک/الحج 30 (97) مسند احمد (1/219، 251، 329، 359، سنن الدارمی/المناسک23 (1874، 1875)، ویأتی عند المؤلف أرقام 2636، 2642، 2643، 5392، 5393، 9395 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔