حدیث نمبر: 2591
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَضْمَنْ لِي وَاحِدَةً وَلَهُ الْجَنَّةُ " , قَالَ يَحْيَى : هَاهُنَا كَلِمَةٌ مَعْنَاهَا " أَنْ لَا يَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مجھے ایک بات کی ضمانت دے تو اس کے لیے جنت ہے “ ( یحییٰ کہتے ہیں : یہاں ایک لفظ تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ ) ” وہ لوگوں سے کچھ نہ مانگے “ ۔
حدیث نمبر: 2592
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ , قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَصْلُحُ الْمَسْأَلَةُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ : رَجُلٍ أَصَابَتْ مَالَهُ جَائِحَةٌ ، فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ ، وَرَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً ، فَيَسْأَلُ حَتَّى يُؤَدِّيَ إِلَيْهِمْ حَمَالَتَهُمْ ثُمَّ يُمْسِكُ عَنِ الْمَسْأَلَةِ ، وَرَجُلٍ يَحْلِفُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ ذَوِي الْحِجَا بِاللَّهِ لَقَدْ حَلَّتِ الْمَسْأَلَةُ لِفُلَانٍ ، فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ مَعِيشَةٍ ثُمَّ يُمْسِكُ عَنِ الْمَسْأَلَةِ ، فَمَا سِوَى ذَلِكَ سُحْتٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : تین شخصوں کے علاوہ کسی اور کے لیے سوال کرنا درست نہیں ہے : ایک وہ شخص جس کا مال کسی آفت کا شکار ہو گیا ہو تو وہ مانگ سکتا ہے یہاں تک کہ وہ گزارے کا کوئی ایسا ذریعہ حاصل کر لے جس سے اس کی ضرورتیں پوری ہو سکیں ، پھر رک جائے ، ( دوسرا ) وہ شخص جو کسی کا قرض اپنے ذمہ لے لے تو وہ قرض لوٹانے تک مانگ سکتا ہے ، پھر ( جب قرض ادا ہو جائے ) تو مانگنے سے رک جائے ۔ اور ( تیسرا ) وہ شخص جس کی قوم کے تین سمجھدار افراد اللہ کے نام کی قسم کھا کر اس کی محتاجی و تنگ دستی کی گواہی دیں کہ فلاں شخص کے لیے مانگنا جائز ہے تو وہ مانگ سکتا ہے ، یہاں تک کہ وہ گزارے کا کوئی ایسا ذریعہ نہ حاصل کر لے جس سے اس کی ضرورتیں پوری ہو سکیں ، ان ( تین صورتوں ) کے علاوہ مانگنا حرام ہے “ ۔