کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: ہر مہینے تین روزے کس طرح رکھے؟ اس سلسلے کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2416
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، يَوْمَ الِاثْنَيْنِ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ ، وَالْخَمِيسِ الَّذِي يَلِيهِ ، ثُمَّ الْخَمِيسِ الَّذِي يَلِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے ، مہینے کے پہلے دوشنبہ ( پیر ) کو ، اور اس کے بعد کے قریبی جمعرات کو ، پھر اس کے بعد کے جمعرات کو ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2416
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بڑا اضطراب ہے)»
حدیث نمبر: 2417
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيَّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعْتُهَا , تَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ ، ثُمَّ الْخَمِيسَ ، ثُمَّ الْخَمِيسَ الَّذِي يَلِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہنیدہ خزاعی کہتے ہیں کہ` میں ام المؤمنین کے پاس آیا ، اور میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے ۔ مہینے کے پہلے کہ دوشنبہ ( پیر ) کو ، پھر جمعرات کو ، پھر اس کے بعد کے آنے والے جمعرات کو ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2417
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15814) (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں بڑا اضطراب ہے)»
حدیث نمبر: 2418
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْأَشْجَعِيُّ كُوفِيٌّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ : " أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صِيَامَ عَاشُورَاءَ ، وَالْعَشْرَ ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` چار باتیں ایسی ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چھوڑتے تھے : ۱- عاشوراء کے روزے کو ۲- ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کے روزے کو ۱؎ ۳- ہر مہینہ کے تین روزے ۴- اور فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں کو ۔
وضاحت:
۱؎: مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں، ذی الحجہ کی دسویں تاریخ اس سے خارج ہے کیونکہ یوم النحر کو روزے رکھنا جائز نہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2418
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو إسحاق الأشجعي: لم أجد من وثقه،والحديث الآتي (2419) يغني عن حديثه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15813)، مسند احمد 6/287 (ضعیف) (اس کے راوی ’’ ابو اسحاق اشجعی‘‘ لین الحدیث ہیں)»
حدیث نمبر: 2419
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ امْرَأَتِهِ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَصُومُ تِسْعًا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ، وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحجہ کے نو روزے ، عاشوراء کے دن ( یعنی دسویں محرم کو ) اور ہر مہینے میں تین روزے رکھتے ۱؎ ہر مہینہ کے پہلے دوشنبہ ( پیر ) کو ، اور دوسرا اس کے بعد والی جمعرات کو ، پھر اس کے بعد والی جمعرات کو ۔
وضاحت:
۱؎: پہلی تاریخ سے لے کر نویں تاریخ تک۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2419
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2374 (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں بڑا اضطراب ہے)»
حدیث نمبر: 2420
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ، عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ امْرَأَتِهِ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الْعَشْرَ ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ذی الحجہ کے پہلے ) عشرہ میں روزے رکھتے تھے ، اور ہر مہینہ میں تین دن : دوشنبہ ( پیر ) اور ( دو ) جمعرات کو ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2420
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بلفظ الخميسين , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2374 (صحیح) (’’الخمیسین‘‘ کے لفظ کے ساتھ صحیح ہے، جیسا کہ اوپر گزرا)»
حدیث نمبر: 2421
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوَّلِ خَمِيسٍ وَالإِثْنَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن ۔ ہر مہینے کی پہلی جمعرات کو ، اور دو اس کے بعد والے دو شنبہ ( پیر ) کو پھر اس کے بعد والے دوشنبہ ( پیر ) کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ نے دوشنبہ (پیر) کو مکرر رکھنے کا حکم دیا اور اس سے پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہے کہ آپ جمعرات کو مکرر رکھتے تھے، ان دونوں روایتوں کے ملانے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مطلوب ان دونوں دنوں میں تین دن روزے ہیں، خواہ وہ دوشنبہ (پیر) کو مکرر کر کے ہوں یا جمعرات کو، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2421
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2374 (شاذ) (’’حکم دیتے تھے ‘‘ کا لفظ شاذ ہے، محفوظ یہ ہے کہ آپ خود روزے رکھتے تھے)»
حدیث نمبر: 2422
أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ ، وَأَيَّامُ الْبِيضِ صَبِيحَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر مہینے میں تین دن کا روزے پورے سال کا روزے ہے “ ( یعنی ایام بیض کے روزے ) اور ایام بیض ( چاند کی ) تیرہویں چودہویں اور پندرہویں راتیں ہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: انہیں ایام بیض اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی راتیں چاندنی کی وجہ سے سفید اور روشن ہوتی ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2422
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3222) (حسن)»