کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: مہینے میں پانچ دن روزہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2404
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ زَيْدٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَيَّ ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةَ أَدَمٍ رَبْعَةً حَشْوُهَا لِيفٌ ، فَجَلَسَ عَلَى الْأَرْضِ وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ , قَالَ : " أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ " , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " خَمْسًا " , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " سَبْعًا " , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " تِسْعًا " , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " إِحْدَى عَشْرَةَ " , قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ شَطْرَ الدَّهْرِ ، صِيَامُ يَوْمٍ وَفِطْرُ يَوْمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقلابۃ ابوالملیح سے روایت کرتے ہیں کہ` انہوں نے کہا : میں تمہارے والد زید کے ساتھ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ، تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے روزہ کا ذکر کیا گیا تو آپ میرے پاس تشریف لائے ، میں نے آپ کے لیے چمڑے کا ایک درمیانی تکیہ لا کر رکھا جس کا بھراؤ کھجور کی پیتاں تھیں ، آپ زمین پر بیٹھ گئے ، اور تکیہ ہمارے اور آپ کے درمیان ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا ہر مہینے میں تین دن تمہارے روزہ کے لیے کافی نہیں ہیں ؟ “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا : ” پانچ دن کر لو “ ، میں نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا : ” سات دن کر لو “ ، میں نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! کچھ اور بڑھا دیجئیے ! آپ نے فرمایا : ” نو دن “ ، میں نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( کچھ اور بڑھا دیجئیے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گیارہ دن کر لو “ ، میں نے پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( کچھ بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا : ” داود علیہ السلام کے روزہ سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں ہے ، اور وہ اس طرح ہے ایک دن روزہ رکھا جائے ، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہا جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2404
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الصوم 59 (1980)، الاستئذان 38 (6277)، صحیح مسلم/الصوم 35 (1159)، (تحفة الأشراف: 8969) (صحیح)»