کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: اس سلسلہ میں غیلان بن جریر پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2384
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو هِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَيْلَانُ وَهُوَ ابْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ فَقَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ! هَذَا لَا يُفْطِرُ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، تو ہم سب کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ، ( اس کے بارے میں ) لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! یہ شخص ایسا ہے جو اتنی مدت سے افطار نہیں کر رہا ہے ( یعنی برابر روزے رکھ رہا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ اس نے روزہ رکھا ، نہ ہی افطار کیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2384
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10665) (صحیح) (اگلی روایت سے تقویت پا کر یہ بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’ابو ہلال راسبی‘‘ ذرا کمزور راوی ہیں)»
حدیث نمبر: 2385
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَيْلَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ فَغَضِبَ , فَقَالَ عُمَرُ : " رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا " , وَسُئِلَ عَمَّنْ صَامَ الدَّهْرَ , فَقَالَ : " لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ ناراض ہو گئے ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم اللہ کے رب ( حقیقی معبود ) ہونے پر ، اسلام کے دین ہونے پر ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر ، راضی ہیں ، نیز آپ سے ہمیشہ روزہ رکھنے والے کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ نے فرمایا : ” اس نے نہ روزہ رکھا ، نہ ہی افطار کیا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2385
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: سكت عنه الشيخ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصوم 36 (1162)، سنن ابی داود/الصوم53 (2426)، سنن الترمذی/الصوم 56 (767)، (سنن ابن ماجہ/الصوم 31 (1713)، 40 (1730)، 41 (1738)، (تحفة الأشراف: 12117)، مسند احمد 5/295، 296، 297، 299، 303، 308، 310، ویأتی عند المؤلف برقم: 2389 (صحیح)»