کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: روزہ میں نیت کا بیان اور اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا والی حدیث میں طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2324
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ " , فَقُلْتُ : لَا ، قَالَ : " فَإِنِّي صَائِمٌ " ، ثُمَّ مَرَّ بِي بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ حَيْسٌ فَخَبَأْتُ لَهُ مِنْهُ ، وَكَانَ يُحِبُّ الْحَيْسَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنَّهُ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ، فَخَبَأْتُ لَكَ مِنْهُ ، قَالَ : " أَدْنِيهِ أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ وَأَنَا صَائِمٌ ، فَأَكَلَ مِنْهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّمَا مَثَلُ صَوْمِ الْمُتَطَوِّعِ مَثَلُ الرَّجُلِ يُخْرِجُ مِنْ مَالِهِ الصَّدَقَةَ ، فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا ، وَإِنْ شَاءَ حَبَسَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس آئے ، اور پوچھا : ” کیا تمہارے پاس کچھ ( کھانے کو ) ہے ؟ “ تو میں نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” تو میں روزہ سے ہوں “ ، اس دن کے بعد پھر ایک دن آپ میرے پاس سے گزرے ، اس دن میرے پاس تحفہ میں حیس ۱؎ آیا ہوا تھا ، میں نے اس میں سے آپ کے لیے نکال کر چھپا رکھا تھا ، آپ کو حیس بہت پسند تھا ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے حیس تحفے میں دیا گیا ہے ، میں نے اس میں سے آپ کے لیے چھپا کر رکھا ہے ، آپ نے فرمایا : ” لاؤ حاضر کرو ، اگرچہ میں نے صبح سے ہی روزہ کی نیت کر رکھی ہے “ ( مگر کھاؤ گا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا ، پھر فرمایا : ” نفلی روزہ کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو اپنے مال میں سے ( نفلی ) صدقہ نکالتا ہے ، جی چاہا دے دیا ، جی چاہا نہیں دیا ، روک لیا ۔“
وضاحت:
۱؎: حیس ایک کھانا ہے جو کھجور، پنیر، گھی اور آٹے سے بنایا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 2325
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَارَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَوْرَةً ، قَالَ : " أَعِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ " ، قَالَتْ : لَيْسَ عِنْدِي شَيْءٌ ، قَالَ : " فَأَنَا صَائِمٌ " ، قَالَتْ : ثُمَّ دَارَ عَلَيَّ الثَّانِيَةَ وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ، فَجِئْتُ بِهِ فَأَكَلَ فَعَجِبْتُ مِنْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! دَخَلْتَ عَلَيَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ ، ثُمَّ أَكَلْتَ حَيْسًا ، قَالَ : " نَعَمْ يَا عَائِشَةُ إِنَّمَا مَنْزِلَةُ مَنْ صَامَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ ، أَوْ غَيْرِ قَضَاءِ رَمَضَانَ ، أَوْ فِي التَّطَوُّعِ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ أَخْرَجَ صَدَقَةَ مَالِهِ ، فَجَادَ مِنْهَا بِمَا شَاءَ ، فَأَمْضَاهُ وَبَخِلَ مِنْهَا بِمَا بَقِيَ فَأَمْسَكَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوم کر میرے پاس آئے اور پوچھا : ” تمہارے پاس کوئی چیز ( کھانے کی ) ہے ؟ “ میں نے عرض کیا ، میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں “ ، پھر ایک اور بار میرے پاس آئے ، اس وقت ہمارے پاس حیس ہدیہ میں آیا ہوا تھا ، تو میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوئی تو آپ نے اسے کھایا ، تو مجھے اس بات سے حیرت ہوئی ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ہمارے پاس آئے تو روزہ سے تھے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیس کھا لیا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں عائشہ ! جس نے کوئی روزہ رکھا لیکن وہ روزہ رمضان کا یا رمضان کی قضاء کا نہ ہو ، یا نفلی روزہ ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اپنے مال میں سے ( نفلی ) صدقہ نکالا ، پھر اس میں سے جتنا چاہا سخاوت کر کے دے دیا اور جو بچ رہا بخیلی کر کے اسے روک لیا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے نفلی روزے کے توڑنے کا جواز ثابت ہوا، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ نفلی روزہ توڑ دینے پر اس کی قضاء واجب نہیں، جمہور کا مسلک یہی ہے۔
حدیث نمبر: 2326
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ وَيَقُولُ : " هَلْ عِنْدَكُمْ غَدَاءٌ ؟ " ، فَنَقُولُ : لَا ، فَيَقُولُ : " إِنِّي صَائِمٌ " ، فَأَتَانَا يَوْمًا وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ " ، قُلْنَا : نَعَمْ ، أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ، قَالَ : " أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ أُرِيدُ الصَّوْمَ فَأَكَلَ " , خَالَفَهُ قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تھے اور پوچھتے تھے : ” کیا تمہارے پاس کھانا ہے ؟ “ میں کہتی تھی : نہیں ، تو آپ فرماتے تھے : ” میں روزہ سے ہوں “ ، ایک دن آپ ہمارے پاس تشریف لائے ، اس دن ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا تھا ، آپ نے کہا : ” کیا تم لوگوں کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے ؟ “ ہم نے کہا : جی ہاں ہے ، ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے ، آپ نے فرمایا : ” میں نے صبح روزہ رکھنے کا ارادہ کیا تھا “ ، پھر آپ نے ( اسے ) کھایا ۔ قاسم بن یزید نے ان کی یعنی ابوبکر حنفی کی مخالفت کی ہے ۱؎ ، ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
وضاحت:
۱؎: سند میں مخالفت اس طرح ہے کہ ابوبکر والی روایت میں طلحہ بن یحییٰ اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے درمیان مجاہد کا واسطہ ہے اور قاسم کی روایت میں عائشہ بنت طلحہ کا، نیز دونوں روایتوں کے متن کے الفاظ بھی مختلف ہیں۔
حدیث نمبر: 2327
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَاسِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَقُلْنَا : أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ قَدْ جَعَلْنَا لَكَ مِنْهُ نَصِيبًا ، فَقَالَ : " إِنِّي صَائِمٌ فَأَفْطَرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، ہم نے عرض کیا : ہمارے پاس حیس کا تحفہ بھیجا گیا ، ہم نے اس میں آپ کا ( بھی ) حصہ لگایا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں روزہ سے ہوں “ ، پھر آپ نے روزہ توڑ دیا ۔
حدیث نمبر: 2328
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ ، فَقَالَ : " أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ تُطْعِمِينِيهِ ؟ " فَنَقُولُ : لَا ، فَيَقُولُ : " إِنِّي صَائِمٌ " ، ثُمَّ جَاءَهَا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ ، فَقَالَ : " مَا هِيَ ؟ " ، قَالَتْ : حَيْسٌ ، قَالَ : " قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَكَلَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں :` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے تھے اور آپ روزہ سے ہوتے تھے ( اس کے باوجود ) پوچھتے تھے : ” تمہارے پاس رات کی کوئی چیز ہے جسے تم مجھے کھلا سکو ؟ “ ہم کہتے نہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” میں نے روزہ رکھ لیا “ پھر اس کے بعد ایک بار آپ ان کے پاس آئے ، تو انہوں نے کہا : ہمارے پاس ہدیہ آیا ہوا ہے آپ نے پوچھا : ” کیا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کیا : حیس ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے صبح روزہ کا ارادہ کیا تھا “ پھر آپ نے کھایا ۔
حدیث نمبر: 2329
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ " ، قُلْنَا : " لَا ، قَالَ : " فَإِنِّي صَائِمٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا : ” تمہارے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے ؟ “ ہم نے کہا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” تو میں روزہ سے ہوں ۔“
حدیث نمبر: 2330
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى , عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، وَمُجَاهِدٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهَا ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ ؟ " ، فَقُلْتُ : لَا ، قَالَ : " إِنِّي صَائِمٌ " ، ثُمَّ جَاءَ يَوْمًا آخَرَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنَّا قَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَدَعَا بِهِ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنِّي قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَكَلَ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے ، پوچھا : ” کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے ؟ “ میں نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” تو میں روزہ سے ہوں “ ، پھر آپ ایک اور دن تشریف لائے ، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے ، تو آپ نے اسے منگوایا ، اور فرمایا : ” میں نے صبح روزہ کی نیت کی تھی “ ، پھر آپ نے کھایا ۔
حدیث نمبر: 2331
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَأُمِّ كُلْثُومٍ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ طَعَامٌ ؟ " نَحْوَهُ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَقَدْ رَوَاهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مجاہد اور ام کلثوم سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے ، اور ان سے پوچھا : ” کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے ؟ “ آگے اسی طرح ہے جیسے اس سے پہلی روایت میں ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : اور اسے سماک بن حرب نے بھی روایت کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں : مجھ سے ایک شخص نے روایت کی اور اس نے عائشہ بنت طلحہ سے روایت کی ہے ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
حدیث نمبر: 2332
أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ طَعَامٍ ؟ " ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " إِذًا أَصُومُ " ، قَالَتْ : وَدَخَلَ عَلَيَّ مَرَّةً أُخْرَى ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ ، فَقَالَ : " إِذًا أُفْطِرُ الْيَوْمَ ، وَقَدْ فَرَضْتُ الصَّوْمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا : ” کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں “ ، پھر دوسری بار آپ میرے پاس تشریف لے آئے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب تو میں آج روزہ توڑ دوں گا حالانکہ میں نے روزہ کی نیت کر لی تھی “ ۔