حدیث نمبر: 2320
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، " أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ إِذَا طَهُرَتْ ؟ قَالَتْ : أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ نَطْهُرُ فَيَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّوْمِ ، وَلَا يَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذہ عدویہ سے روایت ہے کہ` ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا عورت جب حیض سے پاک ہو جائے تو نماز کی قضاء کرے ؟ انہوں نے کہا : کیا تو حروریہ ۱؎ ہے ؟ ہم عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حیض سے ہوتی تھیں ، پھر ہم پاک ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روزہ کی قضاء کا حکم دیتے تھے ، اور نماز کی قضاء کے لیے نہیں کہتے تھے ۔
وضاحت:
۱؎: حروریۃ حروراء کی طرف منسوب ہے، جو کوفہ کے قریب ایک جگہ ہے، چونکہ خوارج یہیں جمع تھے اس لیے اسی کی طرف منسوب کر کے حروری کہلاتے تھے، یہ لوگ حیض کے دنوں میں فوت شدہ نمازوں کی قضاء کو واجب قرار دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 2321
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَيَّ الصِّيَامُ مِنْ رَمَضَانَ ، فَمَا أَقْضِيهِ حَتَّى يَجِيءَ شَعْبَانُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` مجھ پر رمضان کے روزہ ہوتے تھے تو میں قضاء نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا ۔