کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: سفر میں روزہ نہ رکھنا رکھنے سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 2285
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ ، فَنَزَلْنَا فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَاتَّخَذْنَا ظِلَالًا فَسَقَطَ الصُّوَّامُ ، وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَسَقَوْا الرِّكَابَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ، ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے تھے اور کچھ لوگ بغیر روزے کے تھے ، ہم نے ایک گرم دن میں پڑاؤ کیا ، اور ہم ( چھولداریاں اور خیمے لگا لگا کر ) سایہ کرنے لگے ، تو روزہ دار ( سخت گرمی کی تاب نہ لا کر ) گر گر پڑے ، اور روزہ نہ رہنے والے اٹھے ، اور انہوں نے سواریوں کو پانی پلایا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آج غیر روزہ دار ثواب مار لے گئے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2285
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الجھاد71 (2890)، صحیح مسلم/الصوم16 (1119)، (تحفة الأشراف: 1607) (صحیح)»