کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: اس حدیث میں معاویہ بن سلام اور علی بن المبارک کے یحییٰ بن ابی کثیر پر اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2274
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَهُوَ صَائِمٌ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تَنْتَظِرِ الْغَدَاءَ " , قَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنِ الصِّيَامِ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصِّيَامَ ، وَنِصْفَ الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` وہ سفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور وہ روزے سے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : ” ( تم جانا چاہتے ہو ) کیا ، تم دوپہر کے کھانے کا انتظار نہیں کرو گے “ ، انہوں نے کہا : میں روزے سے ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آؤ میں روزے سے متعلق تمہیں بتاتا ہوں ۔ اللہ عزوجل نے مسافر کو روزے کی چھوٹ دی ہے اور نماز آدھی کر دی ہے “ ۔
حدیث نمبر: 2275
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَلِيٌّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفر سے آئے ، آگے راوی نے پوری روایت اسی طرح ذکر کی ۔
حدیث نمبر: 2276
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ التَّلِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلَاةِ ، وَالصَّوْمَ وَعَنِ الْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس ( قشیری ) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے اور ، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی “ ( روزے کی چھوٹ دی ہے ) ۔
حدیث نمبر: 2277
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ قُشَيْرٍ ، عَنْ عَمِّهِ حَدَّثَنَا ، ثُمَّ أَلْفَيْنَاهُ فِي إِبِلٍ لَهُ , فَقَالَ لَهُ أَبُو قِلَابَةَ حَدِّثْهُ , فَقَالَ الشَّيْخُ : حَدَّثَنِي عَمِّي ، أَنَّهُ ذَهَبَ فِي إِبِلٍ لَهُ فَانْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ ، أَوْ قَالَ : يَطْعَمُ , فَقَالَ : " ادْنُ فَكُلْ " ، أَوْ قَالَ : " ادْنُ فَاطْعَمْ " , فَقُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامَ وَعَنِ الْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایوب قبیلہ قشیر کے ایک شیخ سے ، اور وہ قشیری اپنے چچا ۱؎ سے روایت کرتے ہیں ، ( ایوب کہتے ہیں ) ہم سے حدیث بیان کی گئی ،` پھر ہم نے انہیں ( شیخ قشیری کو ) ان کے اونٹوں میں پایا ، تو ان سے ابوقلابہ نے کہا : آپ ان سے ( ایوب سے ) حدیث بیان کیجئے تو ( قشیری ) شیخ نے کہا : مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا کہ وہ اپنے اونٹوں میں گئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے ، آپ کھانا کھا رہے تھے ( راوی کو شک ہے «یا ٔکل» کہا یا «یطعم» کہا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب آؤ اور کھانا کھاؤ “ ( راوی کو شک ہے «ادن فکل» کہا یا «ادن فاطعم» کہا ) تو میں نے کہا : «مںَ صائم» ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دے دی ہے ، اور حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ان کا نام انس بن مالک قشیری ہے۔ ۲؎: حاملہ اور مرضعہ کو روزے کی چھوٹ دی ہے، نہ کہ آدھی نماز کی، جیسا کہ متبادر ہو رہا ہے، ترمذی کی عبارت واضح ہے ” مسافر کو روزہ اور آدھی نماز کی چھوٹ دی ہے، اور حاملہ و مرضعہ کو روزے کی“۔
حدیث نمبر: 2278
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ هَذَا الْحَدِيثَ ، ثُمّ قَالَ : هَلْ لَكَ فِي صَاحِبِ الْحَدِيثِ , فَدَلَّنِي عَلَيْهِ فَلَقِيتُهُ , فَقَالَ : حَدَّثَنِي قَرِيبٌ لِي , يُقَالُ لَهُ : أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلٍ كَانَتْ لِي أُخِذَتْ فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ يَأْكُلُ فَدَعَانِي إِلَى طَعَامِهِ , فَقُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ : " ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنْ ذَلِكَ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایوب کہتے ہیں کہ` مجھ سے ابوقلابہ نے یہ حدیث بیان کی ، پھر مجھ سے کہا : کیا آپ اس حدیث کے بیان کرنے والے سے ملنا چاہیں گے ؟ پھر انہوں نے ان کی طرف میری رہنمائی کی ، تو میں جا کر ان سے ملا ، انہوں نے کہا : مجھ سے میرے ایک رشتہ دار نے جنہیں انس بن مالک کہا جاتا ہے نے بیان کیا کہ میں اپنے اونٹوں کے سلسلے میں جو پکڑ لیے گئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں پہنچا تو آپ کھانا کھا رہے تھے ، تو آپ نے مجھے اپنے کھانے میں شریک ہونے کے لیے بلایا ۔ میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب آؤ میں تمہیں اس کے متعلق بتاتا ہوں ، ( سنو ) اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ ، اور آدھی نماز کی چھوٹ دی ہے “ ۔
حدیث نمبر: 2279
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ فَإِذَا هُوَ يَتَغَدَّى , قَالَ : " هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ " , فَقُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ : " هَلُمَّ أُخْبِرْكَ عَنِ الصَّوْمِ ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمَ وَرَخَّصَ لِلْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایک صحابی کہتے ہیں :` میں ایک ضرورت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اتفاق کی بات آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے ، آپ نے کہا : آؤ کھانا میں شریک ہو جاؤ ، میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں ، آپ نے فرمایا : آؤ میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے ، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی چھوٹ دی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اگر ان کے روزہ رکھنے سے پیٹ کے بچہ کو یا شیرخوار بچہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اوہ روزہ نہ رکھیں۔
حدیث نمبر: 2280
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ رَجُلٍ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو العلاء بن شخیر بھی` ایک شخص سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 2281
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْحَرِيشٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا صَائِمٌ وَهُوَ يَأْكُلُ , قَالَ : " هَلُمَّ " , قُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ : " تَعَالَ أَلَمْ تَعْلَمْ مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ " , قُلْتُ : وَمَا وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ , قَالَ : " الصَّوْمَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہانی بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ` میں مسافر تھا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور میں روزے سے تھا ، اور آپ کھانا تناول فرما رہے تھے ، آپ نے فرمایا : ” آؤ “ ( کھانے میں شریک ہو جاؤ ) میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ” ادھر آؤ ، کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے “ ۔ میں نے کہا : اللہ نے مسافر کو کیا چھوٹ دی ہے ؟ آپ نے فرمایا : روزے کی ، اور آدھی نماز کی ۔
وضاحت:
۱؎: بلحریش بنی الحریش کا مخفف ہے جیسے بلحارث بنی الحارث کا مخفف ہے۔
حدیث نمبر: 2282
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْحَرِيشٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنَّا نُسَافِرُ مَا شَاءَ اللَّهُ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَطْعَمُ ، فَقَالَ : " هَلُمَّ فَاطْعَمْ " ، فَقُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُحَدِّثُكُمْ عَنِ الصِّيَامِ ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہانی بن عبداللہ بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ` جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا ہم سفر کرتے رہے ، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے ، آپ نے فرمایا : ” آؤ کھانا کھاؤ “ ، میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں : اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزے کی چھوٹ دی ہے ، اور آدھی نماز کی بھی ۔
حدیث نمبر: 2283
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ ، وَأَنَا صَائِمٌ , فَقَالَ : " هَلُمَّ " ، قُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ : " أَتَدْرِي مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ ؟ " , قُلْتُ : وَمَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ ؟ قَالَ : " الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ` میں مسافر تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ کھانا کھا رہے تھے اور میں روزے سے تھا ، آپ نے فرمایا : آؤ ( کھانا کھا لو ) میں نے کہا : میں روزے سے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : کیا تمہیں وہ چیز معلوم ہے جس کی اللہ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ؟ ، میں نے کہا : کس چیز کی اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ؟ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزے اور آدھی نماز کی “ ۔
حدیث نمبر: 2284
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مُوسَى هُوَ ابْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ غَيْلَانَ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي قِلَابَةَ فِي سَفَرٍ فَقَرَّبَ طَعَامًا ، فَقُلْتُ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي سَفَرٍ فَقَرَّبَ طَعَامًا , فَقَالَ لِرَجُلٍ : " ادْنُ فَاطْعَمْ " , قَالَ : إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامَ فِي السَّفَرِ فَادْنُ فَاطْعَمْ " , فَدَنَوْتُ فَطَعِمْتُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´غیلان کہتے ہیں :` میں ابوقلابہ کے ساتھ ایک سفر میں نکلا ( کھانے کے وقت ) انہوں نے کھانا میرے آگے بڑھایا تو میں نے کہا : میں تو روزے سے ہوں ، اس پر انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں نکلے ، آپ نے کھانا آگے بڑھاتے ہوئے ایک شخص سے کہا : ” قریب آ جاؤ کھانا کھاؤ “ ، اس نے کہا : میں روزے سے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ـ : ” اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لیے آدھی نماز کی اور سفر میں روزے کی چھوٹ دی ہے “ ۔ تو اب آؤ کھاؤ ، تو میں قریب ہو گیا ، اور کھانے لگا ۔