کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: اوپر والی جابر رضی الله عنہ کی حدیث میں مبہم راوی کے نام کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2264
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَخَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ , عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فِي السَّفَرِ , فَقَالَ : " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن عبدالرحمٰن نے محمد بن عمرو بن حسن سے روایت کی ، اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے وہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ سفر میں اس کے اوپر سایہ کیا گیا ہے ، تو آپ نے فرمایا : ” سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: اوپر والی روایت میں مذکور «عن رجل» میں رجل سے مراد یہی محمد بن عمرو بن حسن ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2264
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الصوم 36 (1946)، صحیح مسلم/الصوم 15 (1115)، سنن ابی داود/الصوم 43 (2407)، (تحفة الأشراف: 2645) ، مسند احمد 3/ 299، 317، 319، 398، سنن الدارمی/الصوم 15 (1750) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2265
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ ، فَبَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ ، فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنَ الْمَاءِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَشَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ ، فَأَفْطَرَ بَعْضُ النَّاسِ وَصَامَ بَعْضٌ فَبَلَغَهُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا , فَقَالَ : " أُولَئِكَ الْعُصَاةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال رمضان میں مکہ کے لیے نکلے ، تو آپ نے روزہ رکھا ، یہاں تک کہ آپ کراع الغمیم پر پہنچے ، تو لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا ، تو آپ کو خبر ملی کہ لوگوں پر روزہ دشوار ہو گیا ہے ، تو آپ نے عصر کے بعد پانی سے بھرا ہوا پیالہ منگایا ، پھر پانی پیا ، اور لوگ دیکھ رہے تھے ، تو ( آپ کو دیکھ کر ) بعض لوگوں نے روزہ توڑ دیا ، اور بعض رکھے رہ گئے ، آپ کو یہ بات پہنچی کہ کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ـ : ” یہی لوگ نافرمان ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2265
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصوم15 (1114)، سنن الترمذی/الصوم18 (710)، (تحفة الأشراف: 2598) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2266
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبدِ اللَّهِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ , فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ : " أَدْنِيَا فَكُلَا " ، فَقَالَا : إِنَّا صَائِمَانِ ، فَقَالَ : " ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمُ اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مرالظہران ( مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے ) میں کھانا لایا گیا ، تو آپ نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا : ” تم دونوں قریب آ جاؤ اور کھاؤ “ ، انہوں نے عرض کیا : ہم روزہ سے ہیں ، تو آپ نے لوگوں سے کہا : ” اپنے دونوں ساتھیوں کے کجاوے کس دو ، اور اپنے دونوں ساتھیوں کے کام کر دو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے سفر میں روزہ رکھنے کا جواز ثابت ہوا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ روزہ دار کو سہولت پہنچائی جائے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2266
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن وهو مدلس،والصواب أنه مرسل. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج حدیث «مسند احمد 2/336 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2267
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَدَّى بِمَرِّ الظَّهْرَانِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ , فَقَالَ : الْغَدَاءَ مُرْسَلٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسلمہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے ، آپ کے ساتھ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا : ” آؤ کھانا کھاؤ “ یہ روایت مرسل ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2267
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، السند مرسل. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، جیسا کہ مؤلف نے بیان فرمایا اس لیے ابوسلمہ تابعی نے صحابی کا ذکر نہیں کیا لیکن اصل حدیث سابقہ حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 2268
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ , كَانُوا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ مُرْسَلٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسلمہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما مرالظہران میں تھے یہ روایت مرسل ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2268
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (2267) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 338
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، وانظر رقم2266 (صحیح) (اس سند میں بھی ارسال ہے جیسا کہ اوپر والی روایت میں گزرا، لیکن اصل حدیث سے سابقہ حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے، اور یہ واضح رہے کہ مؤلف رحمہ اللہ اس طرح کی روایتوں کو ان کی علت اور ضعف بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں، کبھی صراحة اور کبھی صحیح اور غیر صحیح روایات کو پیش کر کے ان کی اصل اور ان کے اختلافات کا تذکرہ کرتے ہیں)»