کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: روزے کی فضیلت اور اس سلسلے میں علی رضی الله عنہ کی حدیث کے بارے میں ابواسحاق سبیعی پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 2213
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ : الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ حِينَ يُفْطِرُ وَحِينَ يَلْقَى رَبَّهُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تبارک و تعالیٰ کہتا ہے : روزہ میرے لیے ہے ، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ۔ اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں : ایک جس وقت وہ روزہ کھولتا ہے ، اور دوسری جس وقت وہ اپنے رب سے ملے گا ، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے “ ۔
حدیث نمبر: 2214
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` اللہ عزوجل فرماتا ہے : روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ، اور روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں : ایک وقت وہ اپنے رب سے ملے گا ، اور دوسری خوشی وہ جو اسے روزہ کھولنے کے وقت حاصل ہوتی ہے ۔ اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے ۔