کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: اس سلسلہ میں ربعی کی حدیث میں منصور پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2128
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَهُ ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ قَبْلَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو ۱؎ یہاں تک کہ ( روزہ رکھنے سے ) پہلے چاند دیکھ لو ، یا ( شعبان کی ) تیس کی تعداد پوری کر لو ، پھر روزہ رکھو ، یہاں تک کہ ( عید الفطر کا ) چاند دیکھ لو ، یا اس سے پہلے رمضان کی تیس کی تعداد پوری کر لو “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزہ نہ رکھو۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2128
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الصوم 6 (2326)، (تحفة الأشراف: 3316) ، مسند احمد 4/314 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2129
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ، أَوْ تَرَوْا الْهِلَالَ ، ثُمَّ صُومُوا وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ " , أَرْسَلَهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایک صحابی رسول رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو یہاں تک کہ شعبان کی گنتی پوری کر لو ، یا رمضان کا چاند دیکھ لو پھر روزہ رکھو ، اور نہ روزہ بند کرو یہاں تک کہ تم عید الفطر کا چاند دیکھ لو ، یا رمضان کی تیس ( دن ) کی گنتی پوری کر لو “ ۔ حجاج بن ارطاۃ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2129
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 2130
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ ، إِلَّا أَنْ تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ صُومُوا رَمَضَانَ ثَلَاثِينَ ، إِلَّا أَنْ تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ربعی کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو ، اور جب اسے ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو ، ( اور ) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو شعبان کے تیس دن پورے کرو ، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو ، پھر رمضان کے تیس روزے رکھو ، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2130
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2128 (صحیح) (ربعی نے صحابی کا ذکر نہیں کیا اس لیے سند ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 2131
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابٌ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے ( رمضان کے چاند کو ) دیکھ کر روزہ رکھو ، اور اسے ( یعنی عید الفطر کے چاند کو ) دیکھ کر روزہ بند کرو ، ( اور ) اگر تمہارے اور اس کے بیچ بدلی حائل ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو ، اور ( ایک یا دو دن پہلے سے رمضان کے ) مہینہ کا استقبال نہ کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2131
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الصوم 7 (2327)، سنن الترمذی/الصوم 5 (688)، (تحفة الأشراف: 6105) ، مسند احمد 1/226، 258، سنن الدارمی/الصوم 1 (1725)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 2132، 2191 (صحیح) (اس کے راوی سماک کے عکرمہ سے سماع میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے، لیکن روایت رقم: 2126 سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 2132
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ صُومُوا لِلرُّؤْيَةِ ، وَأَفْطِرُوا لِلرُّؤْيَةِ ، فَإِنْ حَالَتْ دُونَهُ غَيَايَةٌ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان سے پہلے روزہ مت رکھو ، چاند دیکھ کر روزہ رکھو ، اور ( چاند ) دیکھ کر ( روزہ ) بند کرو ، ( پس ) اگر چاند سے ورے بادل حائل ہو جائے تو تیس ( دن ) پورے کرو “ ۔
وضاحت:
۱؎: رمضان سے پہلے سے مراد شعبان کا آخری دن ہے، مطلب یہ ہے کہ صرف یہ خیال کر کے روزہ مت شروع کر دو کہ آج ۲۹ شعبان ہے تو ممکن ہے کہ کل سے رمضان شروع ہو جائے گا، بلکہ یقینی طور پر چاند دیکھ کر ہی روزہ شروع کرو، یا پھر تیس کی گنتی پوری کرو۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2132
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2131 (صحیح)»