کتب حدیث ›
سنن نسائي › ابواب
› باب: ماہ رمضان کے چاند (دیکھنے) پر ایک آدمی کی گواہی قبول کرنے کا بیان اور سماک (والی) حدیث میں راویوں کے سفیان پر اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2114
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : رَأَيْتُ الْهِلَالَ ، فَقَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " ، قَالَ : نَعَمْ ، فَنَادَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صُومُوا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور ) کہنے لگا : میں نے چاند دیکھا ہے ، تو آپ نے کہا : ” کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں روزہ رکھنے کا اعلان کر دیا ۔
حدیث نمبر: 2115
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَبْصَرْتُ الْهِلَالَ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " , قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " يَا بِلَالُ , أَذِّنْ فِي النَّاسِ ، فَلْيَصُومُوا غَدًا " ,
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : میں نے آج رات چاند دیکھا ہے ، آپ نے پوچھا : ” کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، تو آپ نے فرمایا : ” بلال ! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل سے روزے رکھیں “ ۔
حدیث نمبر: 2116
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلٌ ,
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے` عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 2117
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ مِصِّيصِيٌّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے` بھی عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے ۔
حدیث نمبر: 2118
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شَبِيبٍ أَبُو عُثْمَانَ وَكَانَ شَيْخًا صَالِحًا بِطَرَسُوسَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ الْجَدَلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ خَطَبَ النَّاسَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ , فَقَالَ : أَلَا إِنِّي جَالَسْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَاءَلْتُهُمْ ، وَإِنَّهُمْ حَدَّثُونِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَانْسُكُوا لَهَا ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ ، فَإِنْ شَهِدَ شَاهِدَانِ ، فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب سے روایت ہے کہ` انہوں نے ایک ایسے دن میں جس میں شک تھا ( کہ رمضان کی پہلی تاریخ ہے یا شعبان کی آخری ) لوگوں سے خطاب کیا تو کہا : سنو ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ہم نشینی کی ، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا تو میں نے ان سے سوالات کئے ، اور انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو ، اور چاند دیکھ کر افطار کرو ، اور اسی طرح حج بھی کرو ، اور اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو تیس ( کی گنتی ) پوری کرو ، ( اور ) اگر دو گواہ ( چاند دیکھنے کی ) شہادت دے دیں تو روزے رکھو ، اور افطار ( یعنی عید ) کرو “ ۔