حدیث نمبر: 2021
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قال : سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا ، يَقُولُ : " أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ فِي قَبْرِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ " , وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کو قبر میں داخل کر دئیے جانے کے بعد آئے ، تو آپ نے اسے ( نکالنے کا ) حکم دیا ، چنانچہ وہ نکالا گیا ، آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر بٹھایا ، اور اس پر تھو تھو کیا ، اور اسے اپنی قمیص پہنائی ، واللہ اعلم ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس پر تھو تھو کرنے اور اسے اپنی قمیص پہنانے میں کیا مصلحت پنہا تھی اسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، بعض لوگوں نے کہا: چونکہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی الله عنہ کو اپنی قمیص پہنائی تھی اس لیے آپ نے بدلے میں ایسا کیا، اور ایک قول یہ ہے کہ اس کے بیٹے کی دلجوئی کے لیے آپ نے ایسا کیا تھا۔ واللہ اعلم
حدیث نمبر: 2022
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قال : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قال : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَأَخْرَجَهُ مِنْ قَبْرِهِ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَتَفَلَ فِيهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ " قَالَ جَابِرٌ : " وَصَلَّى عَلَيْهِ " وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو اس کی قبر سے نکلوایا ، پھر اس کا سر اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا ، اور اس پر تھو تھو کیا ، اور اسے اپنی قمیص پہنائی ۔ اور اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی ، واللہ اعلم ۔