حدیث نمبر: 1993
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعِ عَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مَيِّتٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مِائَةً يَشْفَعُونَ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ " , قَالَ سَلَّامٌ : فَحَدَّثْتُ بِهِ شُعَيْبَ بْنَ الْحَبْحَابِ , فَقَالَ : حَدَّثَنِي بِهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس میت پر بھی مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھے ( جن کی تعداد ) سو تک پہنچتی ہو ، ( اور ) وہ ( اللہ کے پاس ) شفاعت ( سفارش ) کریں تو اس کے حق میں ( ان کی ) شفاعت قبول کی جائے گی “ ۔ سلام کہتے ہیں : میں نے اس حدیث کو شعیب بن حبحاب سے بیان کیا تو انہوں نے کہا : مجھ سے اسے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے ، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے ۔
حدیث نمبر: 1994
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قال : أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعٍ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَمُوتُ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ فَيَبْلُغُوا أَنْ يَكُونُوا مِائَةً فَيَشْفَعُوا إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمانوں میں سے جو بھی اس طرح مرتا ہو کہ لوگوں کی ایک ایسی جماعت اس کی نماز جنازہ پڑھتی ہو ، جو سو تک پہنچ جاتی ہو ، تو وہ شفاعت کرتے ہیں ، تو ان کی شفاعت قبول کی جاتی ہے “ ۔
حدیث نمبر: 1995
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ أَبُو الْخَطَّابِ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو بَكَّارٍ الْحَكَمُ بْنُ فَرُّوخَ ، قال : صَلَّى بِنَا أَبُو الْمَلِيحِ عَلَى جَنَازَةٍ فَظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ كَبَّرَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ , فَقَالَ : أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَلْتَحْسُنْ شَفَاعَتُكُمْ , قَالَ أَبُو الْمَلِيحِ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ سَلِيطٍ ، عَنْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : أَخْبَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مَيِّتٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ " , فَسَأَلْتُ أَبَا الْمَلِيحِ عَنِ الْأُمَّةِ , فَقَالَ : أَرْبَعُونَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکار حکم بن فروخ کہتے ہیں` ہمیں ابوملیح نے ایک جنازے کی نماز پڑھائی تو ہم نے سمجھا کہ وہ تکبیر ( تکبیر اولیٰ ) کہہ چکے ( پھر کیا دیکھتا ہوں کہ ) وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے ، اور کہا : تم اپنی صفیں درست کرو تاکہ تمہاری سفارش کارگر ہو ۔ ابوملیح کہتے ہیں : مجھ سے عبداللہ بن سلیط نے بیان کیا ، انہوں نے امہات المؤمنین میں سے ایک سے روایت کی ، اور وہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں ، وہ کہتی ہیں : مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ، آپ نے فرمایا : ” جس میت کی بھی لوگوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھتی ہے تو اس کے حق میں ( ان کی ) شفاعت قبول کر لی جاتی ہے “ ، تو میں نے ابوملیح سے جماعت ( کی تعداد ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : چالیس افراد پر مشتمل گروہ امت ( جماعت ) ہے ۔