حدیث نمبر: 1960
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةً مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ وَقَالَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ " ، ثُمَّ دَعَا مَمْلُوكِيهِ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ ، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیئے ، اس کے پاس ان کے علاوہ اور کوئی مال ( مال و اسباب ) نہ تھا ، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ اس سے ناراض ہوئے ، اور فرمایا : ” میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھوں “ ، پھر آپ نے اس کے غلاموں کو بلایا ، اور ان کے تین حصے کیے ، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی ، اور دو کو آزاد کر دیا ، اور چار کو رہنے دیا ۔