مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: کفار و مشرکین کی موت سے لوگوں راحت ملتی ہے۔
حدیث نمبر: 1933
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ , قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَهُوَ الْحَرَّانِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنِي زَيْدٌ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قال : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَتْ جَنَازَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ ، الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ فَيَسْتَرِيحُ مِنْ أَوْصَابِ الدُّنْيَا وَنَصَبِهَا وَأَذَاهَا ، وَالْفَاجِرُ يَمُوتُ فَيَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک جنازہ نظر آیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ «مستریح» ہے یا «مستراح منہ» ہے ، ( کیونکہ ) جب مومن مرتا ہے تو دنیا کی مصیبتوں ، بلاؤں اور تکلیفوں سے نجات پا لیتا ہے ، اور فاجر مرتا ہے تو اس سے ( اللہ کے ) بندے ، ملک و شہر ، پیڑ پودے ، اور چوپائے ( سب ) راحت پا لیتے ہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1933
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر ما قبلہ (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔