حدیث نمبر: 1909
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ , قَالَ : قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي ، وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ يَعْنِي السُّوءَ عَلَى سَرِيرِهِ , قَالَ : يَا وَيْلِي أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي ؟ ! " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب نیک بندہ اپنی چارپائی پہ رکھا جاتا ہے ، تو وہ کہتا ہے : مجھے جلدی لے چلو ، مجھے جلدی لے چلو ، اور جب برا آدمی اپنی چارپائی پہ رکھا جاتا ہے ، تو کہتا ہے : ہائے میری تباہی ! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو “ ۔
حدیث نمبر: 1910
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً , قَالَتْ : قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ , قَالَتْ : يَا وَيْلَهَا إِلَى أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا ؟ ! يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ ، وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب جنازہ ( چارپائی پر ) رکھا جاتا ہے ( اور ) لوگ اسے اپنے کندھوں پہ اٹھاتے ہیں ، تو اگر وہ نیکوکار ہوتا ہے تو کہتا ہے : مجھے جلدی لے چلو ، مجھے جلدی لے چلو ، اور اگر برا ہوتا ہے تو کہتا ہے : ہائے اس کی ہلاکت ! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو ، اس کی آواز ہر چیز سنتی ہے سوائے انسان کے ، اگر انسان اسے سن لے تو بیہوش ہو جائے “ ۔
حدیث نمبر: 1911
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ ، وَإِنْ تَكُ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنازے کو تیز لے چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے نیکی کی طرف ( جلد ) لے جاؤ گے ، اور اگر اس کے علاوہ ہے تو وہ ایک شر ہے جسے تم ( جلد ) اپنی گردنوں سے اتار پھینکو گے “ ۔
حدیث نمبر: 1912
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قال : حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَدَّمْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ ذَلِكَ كَانَتْ شَرًّا تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جنازے کو جلدی لے چلو ، کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف جلد لے جاؤ گے ، اور اگر بد ہے تو شر کو اپنی گردنوں سے ( جلد ) اتار پھینکو گے “ ۔
حدیث نمبر: 1913
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : أَنْبَأَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُونُسَ ، قال : حَدَّثَنِي أَبِي ، قال : " شَهِدْتُ جَنَازَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، وَخَرَجَ زِيَادٌ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيِ السَّرِيرِ , فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمَوَالِيهِمْ يَسْتَقْبِلُونَ السَّرِيرَ وَيَمْشُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ وَيَقُولُونَ : رُوَيْدًا رُوَيْدًا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ , فَكَانُوا يَدِبُّونَ دَبِيبًا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ الْمِرْبَدِ لَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ عَلَى بَغْلَةٍ ، فَلَمَّا رَأَى الَّذِي يَصْنَعُونَ حَمَلَ عَلَيْهِمْ بِبَغْلَتِهِ وَأَهْوَى إِلَيْهِمْ بِالسَّوْطِ , وَقَالَ : خَلُّوا , فَوَالَّذِي أَكْرَمَ وَجْهَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ نَرْمُلُ بِهَا رَمَلًا فَانْبَسَطَ الْقَوْمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن جوشن کہتے ہیں` میں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں موجود تھا ، زیاد نکلے تو وہ چارپائی کے آگے چل رہے تھے ، عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں سے کچھ لوگ اور ان کے غلام چارپائی کو سامنے کر کے اپنی ایڑیوں کے بل چلنے لگے ، وہ کہہ رہے تھے : آہستہ چلو ، آہستہ چلو ، اللہ تمہیں برکت دے ، تو وہ لوگ رینگنے کے انداز میں چلنے لگے ، یہاں تک کہ جب ہم مربد کے راستے میں تھے تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ہمیں ایک خچر پر ( سوار ) ملے ، جب انہوں نے انہیں ( ایسا ) کرتے دیکھا ، تو اپنے خچر پر ( سوار ) ان کے پاس گئے اور کوڑے سے ان کی طرف اشارہ کیا ، اور کہا : قسم ! اس ذات کی جس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت بخشی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے ، تو لوگ ( یہ سن کر ) خوش ہوئے ۔
حدیث نمبر: 1914
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُشَيْمٌ , عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قال : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ نَرْمُلُ بِهَا رَمَلًا " , وَاللَّفْظُ حَدِيثُ هُشَيْمٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے ( صحابہ کرام ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے ۔ یہ الفاظ ہشیم کی روایت کے ہیں ۔
حدیث نمبر: 1915
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَحْيَى ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جَنَازَةٌ فَقُومُوا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تمہارے ( سامنے ) سے جنازہ گزرے تو کھڑے ہو جاؤ ، ( اور ) جو ( جنازے ) کے ساتھ جائے وہ نہ بیٹھے یہاں تک کہ اسے رکھ دیا جائے “ ۔