مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: میت کے بدن پر کپڑا لپیٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1894
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قال : أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ أَبِي تَمِيمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، يَقُولُ : كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَدِمَتْ تُبَادِرُ ابْنًا لَهَا فَلَمْ تُدْرِكْهُ ، حَدَّثَتْنَا ، قَالَتْ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ فَقَالَ : " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ، فَلَمَّا فَرَغْنَا أَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ : أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " , وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ , قَالَ : لَا أَدْرِي أَيُّ بَنَاتِهِ , قَالَ : قُلْتُ : مَا قَوْلُهُ أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ أَتُؤَزَّرُ بِهِ ؟ قَالَ : لَا أُرَاهُ إِلَّا أَنْ يَقُولَ : " الْفُفْنَهَا فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن سیرین کہتے ہیں` ام عطیہ رضی اللہ عنہا ایک انصاری عورت تھیں ، وہ ( بصرہ ) آئیں ، اپنے بیٹے سے جلد ملنا چاہ رہی تھیں لیکن وہ اسے نہیں پا سکیں ، انہوں نے ہم سے حدیث بیان کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں پانی اور بیر ( کی پتیوں ) سے تین بار ، یا پانچ بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھو ، اور آخر میں کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لینا ( اور ) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتاؤ “ ، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا : ” اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو “ ، اور اس سے زیادہ نہیں فرمایا ۔ ( ایوب نے ) کہا : میں نہیں جانتا کہ یہ آپ کی کون سی بیٹی تھی ں ، راوی کہتے ہیں : میں نے پوچھا ” اشعار “ سے کیا مراد ہے ؟ کیا ازار ( تہبند ) پہنانا مقصود ہے ؟ ایوب نے کہا : میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1894
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم: 1882 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1895
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ النَّسَائِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : تُوُفِّيَ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ وَاغْسِلْنَهَا بِالسِّدْرِ وَالْمَاءِ , وَاجْعَلْنَ فِي آخِرِ ذَلِكِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي قَالَتْ : فَآذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ فَقَالَ : أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کی موت ہو گئی تو آپ نے فرمایا : ” انہیں تین یا پانچ بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو ، اور انہیں بیر ( کے پتوں ) اور پانی سے غسل دو ، اور کچھ کافور ملا لو ، اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو “ ، وہ کہتی ہیں : میں نے آپ کو خبر کیا ، تو آپ نے ہماری طرف اپنی لنگی پھینکی اور فرمایا : ” اسے ( ان کے جسم سے ) لپیٹ دو “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1895
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الجنائز 12 (1257)، (تحفة الأشراف: 18104) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔