حدیث نمبر: 1888
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ وَقَالَ : أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کی وفات ہو گئی ، تو آپ نے ہمیں بلوایا ( اور ) فرمایا : ” اسے پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے تین یا پانچ بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ اگر مناسب سمجھو ، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی کچھ ( مقدار ) ملا لینا ، اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو “ ۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی ، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا : ” اسے ( اس کے جسم سے ) لپیٹ دو “ ۔
حدیث نمبر: 1889
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ نَحْوَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، مگر ( اس میں یہ الفاظ ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں تین بار یا پانچ بار یا سات بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ اگر اس کی ضرورت سمجھو “ ۔
حدیث نمبر: 1890
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ بَعْضِ إِخْوَتِهِ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا بِغَسْلِهَا ، فَقَالَ : " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ " , قَالَتْ : قُلْتُ : وِتْرًا ، قَالَ : " نَعَمْ ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ ، فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ , وَقَالَ : أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کی وفات ہو گئی ، تو آپ نے مجھے انہیں نہلانے کا حکم دیا اور فرمایا : ” تین بار ، یا پانچ بار ، یا سات بار غسل دو ، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو “ ، تو میں نے کہا : طاق بار ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اور آخری مرتبہ کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو ، ( اور ) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے باخبر کرنا “ ، چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے ، ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا ، اور فرمایا : ” اسے ( اس کے جسم سے ) لپیٹ دو “ ۔