مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: میت کو طاق بار غسل دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1886
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَتْنَا حَفْصَةُ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ : مَاتَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : " اغْسِلْنَهَا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ وَقَالَ : أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " وَمَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ وَأَلْقَيْنَاهَا مِنْ خَلْفِهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی انتقال کر گئیں ، تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا اور فرمایا : ” اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دینا ، اور طاق بار یعنی تین بار ، یا پانچ بار غسل دینا ، اگر ضرورت سمجھو تو سات بار دینا ، اور آخری بار تھوڑا کافور ملا لینا ( اور ) جب تم فارغ ہو چکو تو مجھے خبر کرنا “ ، تو جب ہم ( نہلا کر ) فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا ، اور فرمایا : ” اسے ( ان کے جسم پہ ) لپیٹ دو “ ، ( پھر ) ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں ، اور انہیں ان کے پیچھے ڈال دیا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1886
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الجنائز 17 (1263)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (939)، سنن الترمذی/الجنائز 15 (990)، (تحفة الأشراف: 18135) ، مسند احمد 6/407، 408 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔