مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: میت کو گرم پانی سے غسل دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1883
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ ، قَالَتْ : تُوُفِّيَ ابْنِي فَجَزِعْتُ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ لِلَّذِي يَغْسِلُهُ : لَا تَغْسِلِ ابْنِي بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَتَقْتُلَهُ ، فَانْطَلَقَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِهَا ، فَتَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ : " مَا قَالَتْ طَالَ عُمْرُهَا ، فَلَا نَعْلَمُ امْرَأَةً عُمِرَتْ مَا عُمِرَتْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میرا بیٹا مر گیا ، تو میں اس پر رونے لگی اور اس شخص سے جو اسے غسل دے رہا تھا کہا : میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دو کہ اس ( مرے کو مزید ) مارو ، عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، اور آپ کو ان کی یہ بات بتائی تو آپ مسکرا پڑے ، پھر فرمایا : ” کیا کہا اس نے ؟ اس کی عمردراز ہو “ ، ( راوی کہتے ہیں ) تو ہم نہیں جانتے کہ کسی عورت کو اتنی عمر ملی ہو جتنی انہیں ملی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا «طال عمرہا» کی برکت تھی۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1883
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو الحسن مولي اُم قيس بنت محصن: مجهول،لم أجد من وثقه وجهله ابن القطان الفاسي. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18346) ، مسند احمد 6/355 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’ ابو الحسن‘‘ لین الحدیث ہیں)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔