مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: میت کو پانی اور بیر کی پتیوں سے غسل دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1882
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ , فَقَالَ : " اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ ، فَأَعْطَانَا حَقْوَهُ , وَقَالَ : أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام عطیہ انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ۱؎ کی وفات ہوئی ، آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ” اسے پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے دو تین یا پانچ یا اس سے زیادہ بار اگر مناسب سمجھو غسل دو ، اور آخری بار میں کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو ( اور ) جب تم ( غسل سے ) فارغ ہو تو مجھے خبر کرو “ ۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا : ” اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: جمہور کے قول کے مطابق یہ زینب رضی الله عنہا تھیں، اور بعض اہل سیر کی رائے ہے کہ یہ ام کلثوم رضی الله عنہا تھیں، صحیح پہلا قول ہے۔ ۲؎: شعار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو جسم سے ملا ہو، مطلب یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو پھر کفن پہناؤ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1882
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الوضوء 31 (167)، والجنائز 8-17 (1253-1263)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (939)، سنن ابی داود/الجنائز 33 (3142)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 15 (990)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 8 (1458)، (تحفة الأشراف: 18094)، موطا امام مالک/الجنائز 1 (2)، مسند احمد 6/84، 85، 407، 408، ویأتی عند المؤلف فی بأرقام: 1887، 1888، 1891، 1894 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔