حدیث نمبر: 1879
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَى زَيْدًا وَجَعْفَرًا قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ خَبَرُهُمْ ، فَنَعَاهُمْ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید اور جعفر کی موت کی اطلاع ( کسی آدمی کے ذریعہ ) ان کی ( موت ) کی خبر آنے سے پہلے دی ، اس وقت آپ کی دونوں آنکھیں اشکبار تھیں ۔
حدیث نمبر: 1880
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ , وَابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَى لَهُمَا النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَقَالَ : اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے ، اور فرمایا : ” اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرو “ ۔
حدیث نمبر: 1881
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ . ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَعِيدٌ , حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ بَصُرَ بِامْرَأَةٍ لَا تَظُنُّ أَنَّهُ عَرَفَهَا ، فَلَمَّا تَوَسَّطَ الطَّرِيقَ وَقَفَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ ، فَإِذَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا : " مَا أَخْرَجَكِ مِنْ بَيْتِكِ يَا فَاطِمَةُ ؟ " , قَالَتْ : أَتَيْتُ أَهْلَ هَذَا الْمَيِّتِ فَتَرَحَّمْتُ إِلَيْهِمْ وَعَزَّيْتُهُمْ بِمَيِّتِهِمْ , قَالَ : " لَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى " , قَالَتْ : مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَكُونَ بَلَغْتُهَا وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِي ذَلِكَ مَا تَذْكُرُ ، فَقَالَ لَهَا : " لَوْ بَلَغْتِهَا مَعَهُمْ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : رَبِيعَةُ ضَعِيفٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ اچانک آپ کی نگاہ ایک عورت پہ پڑی ، ہم یہی گمان کر رہے تھے کہ آپ نے اسے نہیں پہچانا ہے ، تو جب بیچ راستے میں پہنچے تو آپ کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ وہ ( عورت ) آپ کے پاس آ گئی ، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں ، آپ نے ان سے پوچھا : ” فاطمہ ! تم اپنے گھر سے کیوں نکلی ہو ؟ “ انہوں نے جواب دیا : میں اس میت کے گھر والوں کے پاس آئی ، میں نے ان کے لیے رحمت کی دعا کی ، اور ان کی میت کی وجہ سے ان کی تعزیت کی ، آپ نے فرمایا : ” شاید تم ان کے ساتھ کدیٰ ۱؎ تک گئی تھیں ؟ “ انہوں نے کہا : اللہ کی پناہ ! میں وہاں تک کیوں جاتی اس سلسلے میں آپ کو ان باتوں کا ذکر کرتے سن چکی ہوں جن کا آپ ذکر کرتے ہیں ، تو آپ نے ان سے فرمایا : ” اگر تم ان کے ساتھ وہاں جاتی تو تم جنت نہ دیکھ پاتی یہاں تک کہ تمہارے باپ کے دادا ( عبدالمطلب ) اسے دیکھ لیں “ ۲؎ ۔ نسائی کہتے ہیں : ربیعہ ضعیف ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: «کُدَی کُدْیَۃ» کی جمع ہے جس کے معنی سخت زمین کے ہیں یہاں مراد قبرستان ہے۔ ۲؎: یہ جملہ «حتیٰ یلج الجمل فی سم الخیاط» کے قبیل سے ہے، مراد یہ ہے کہ تم اسے کبھی نہیں دیکھ پاتی۔