مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: جو تین اولاد آگے اللہ کے پاس بھیج چکا ہو اس کے اجر و ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1878
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي جَدِّي طَلْقُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا يَشْتَكِي ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَخَافُ عَلَيْهِ وَقَدْ قَدَّمْتُ ثَلَاثَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا بیٹا لے کر آئی جو بیمار تھا ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں ڈر رہی ہوں کہ یہ مر نہ جائے ، اور ( اس سے پہلے ) تین بچوں کو بھیج چکی ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لیے زبردست ڈھال بنا لیا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1878
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
حدیث تخریج «صحیح مسلم/البر والصلة 47 (2636)، (تحفة الأشراف: 14891) ، مسند احمد 2/419، 536 (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔