مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: میت پر رونے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1860
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَزْرَقِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ ، فَقَامَ عُمَرُ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُنَّ يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ , وَالْقَلْبَ مُصَابٌ , وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں کسی کا انتقال ہو گیا تو عورتیں اکٹھا ہوئیں ( اور ) میت پر رونے لگیں ، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر انہیں روکنے اور بھگانے لگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ! انہیں چھوڑ دو کیونکہ آنکھوں میں آنسو ہے ، دل غم میں ڈوبا ہوا ہے ، اور موت کا وقت قریب ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1860
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (1587) سلمة : مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده من المتقدمين. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
حدیث تخریج «سنن ابن ماجہ/الجنائز 53 (1587)، (تحفة الأشراف: 13475) ، مسند احمد 2/110، 273، 408 (ضعیف) (اس کے راوی ’’سلمہ‘‘ لین الحدیث ہیں)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔