مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: میت پر نوحہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1852
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ ، قَالَ : " لَا تَنُوحُوا عَلَيَّ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُنَحْ عَلَيْهِ " مُخْتَصَرٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قیس بن عاصم رضی الله عنہ نے کہا` تم میرے اوپر نوحہ مت کرنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا ۔ یہ لمبی حدیث سے مختصر ہے ۔
وضاحت:
۱؎: میت پر اس کے اوصاف بیان کر کے چلا چلا کر رونے کو نوحہ کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1852
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11101) ، مسند احمد 5/61 (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 1853
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ حِينَ بَايَعَهُنَّ ، أَنْ لَا يَنُحْنَ ، فَقُلْنَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ نِسَاءً أَسْعَدْنَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَفَنُسْعِدُهُنَّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا إِسْعَادَ فِي الْإِسْلَامِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت عورتوں سے بیعت لی تو ان سے یہ بھی عہد لیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی ، تو عورتوں نے کہا : اللہ کے رسول ! کچھ عورتوں نے زمانہ جاہلیت میں ( نوحہ کرنے میں ) ہماری مدد کی ہے ، تو کیا ہم ان کی مدد کریں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام میں ( نوحہ پر ) کوئی مدد نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1853
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 485) ، مسند احمد 3/197 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1854
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِالنِّيَاحَةِ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” میت کو اس کی قبر میں اس پر نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1854
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الجنائز 33 (1292)، صحیح مسلم/الجنائز 9 (927)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 54 (1593)، (تحفة الأشراف: 10536) ، مسند احمد 1/26، 36، 50، 51 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1855
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ هُوَ ابْنُ زَاذَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِنِيَاحَةِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ بِخُرَاسَانَ وَنَاحَ أَهْلُهُ عَلَيْهِ هَاهُنَا , أَكَانَ يُعَذَّبُ بِنِيَاحَةِ أَهْلِهِ ؟ قَالَ : صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَبْتَ أَنْتَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے کہا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ، اس پر ایک شخص نے ان سے کہا : مجھے بتائیے کہ ایک شخص خراسان میں مرے ، اور اس کے گھر والے یہاں اس پر نوحہ کریں تو اس پر اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا ، ( یہ بات عقل میں آنے والی نہیں ) ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ، اور تو جھوٹا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہی جواب ہے اس شخص کا جو حدیث کے ہوتے ہوئے عقل اور قیاس کے گھوڑے دوڑائے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1855
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس وعنعن. ولأصل الحديث شواهد كثيرة،انظر الحديث السابق (1854) وهو يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 336
حدیث تخریج «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10810) (صحیح) (اس سند میں ’’ہشیم ‘‘ اور ’’ حسن بصری‘‘ مدلس ہیں، مگر پچھلی سند (1850) سے یہ روایت صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 1856
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، عَنْ عَبْدَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ , فَقَالَتْ : وَهِلَ إِنَّمَا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ , فَقَالَ : " إِنَّ صَاحِبَ الْقَبْرِ لَيُعَذَّبُ وَإِنَّ أَهْلَهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ " , ثُمَّ قَرَأَتْ وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے “ ، اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا : انہیں ( ابن عمر کو ) غلط فہمی ہوئی ہے ( اصل واقعہ یوں ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تو کہا : اس قبر والے کو عذاب دیا جا رہا ہے ، اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں ، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی : «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ” کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “ ( فاطر : ۱۸ ) ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1856
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/المغازي 8 (3978)، صحیح مسلم/الجنائز 9 (931)، سنن ابی داود/الجنائز 29 (3129)، (تحفة الأشراف: 7324، 16818) ، مسند احمد 2/38 و 6/39، 57، 95، 209 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1857
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ وَذُكِرَ لَهَا ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ " , قَالَتْ عَائِشَةُ : يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنْ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ ، إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا جب ان کے سامنے اس بات کا ذکر کیا گیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن کی مغفرت کرے ، سنو ! انہوں نے جھوٹ اور غلط نہیں کہا ہے ، بلکہ وہ بھول گئے انہیں غلط فہمی ہوئی ہے ( اصل بات یہ ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودیہ عورت ( کی قبر ) کے پاس سے گزرے جس پر ( اس کے گھر والے ) رو رہے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے عذاب دیا جا رہا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1857
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الجنائز 32 (1289)، صحیح مسلم/الجنائز 9 (932)، سنن الترمذی/الجنائز 25 (1006)، (تحفة الأشراف: 17948)، موطا امام مالک/الجنائز 12 (37) ، مسند احمد 6/107، 255 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1858
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : قَصَّهُ لَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَتْ عَائِشَةُ " إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب کو اس پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1858
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الجنائز 32 (1286) مطولاً، صحیح مسلم/الجنائز 9 (929) مطولاً، (تحفة الأشراف: 7276، 16227) ، مسند احمد 1/41، 42 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1859
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ ، يَقُولُ : لَمَّا هَلَكَتْ أُمُّ أَبَانَ حَضَرْتُ مَعَ النَّاسِ فَجَلَسْتُ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ ، فَبَكَيْنَ النِّسَاءُ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَلَا تَنْهَى هَؤُلَاءِ عَنِ الْبُكَاءِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ ، خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ رَأَى رَكْبًا تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَقَالَ : انْظُرْ مَنِ الرَّكْبُ ، فَذَهَبْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا صُهَيْبٌ وَأَهْلُهُ ، فَقَالَ : عَلَيَّ بِصُهَيْبٍ ، فَلَمَّا دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ أُصِيبَ عُمَرُ فَجَلَسَ صُهَيْبٌ يَبْكِي عِنْدَهُ , يَقُولُ : وَا أُخَيَّاهُ وَا أُخَيَّاهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا صُهَيْبُ , لَا تَبْكِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " , قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : أَمَا وَاللَّهِ مَا تُحَدِّثُونَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ كَاذِبَيْنِ مُكَذَّبَيْنِ , وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ ، وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْقُرْآنِ لَمَا يَشْفِيكُمْ أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة النجم آية 38 , وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ` جب ام ابان مر گئیں تو میں ( بھی ) لوگوں کے ساتھ ( تعزیت میں ) آیا ، اور عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے بیچ میں بیٹھ گیا ، عورتیں رونے لگیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : کیا تم انہیں رونے سے روکو گے نہیں ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے “ ، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کہتے تھے ، ( ایک بار ) میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ہم بیداء پہنچے ، تو انہوں نے ایک درخت کے نیچے کچھ سواروں کو دیکھا تو ( مجھ سے ) کہا : دیکھو ( یہ ) سوار کون ہیں ؟ چنانچہ میں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں ، لوٹ کر ان کے پاس آیا ، اور ان سے کہا : امیر المؤمنین ! وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں ، تو انہوں نے کہا : صہیب رضی اللہ عنہ کو میرے پاس لاؤ ، پھر جب ہم مدینہ آئے تو عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دئیے گئے ، صہیب رضی اللہ عنہ ان کے پاس روتے ہوئے بیٹھے ( اور ) وہ کہہ رہے تھے : ہائے میرے بھائی ! ہائے میرے بھائی ! تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : صہیب ! روؤ مت ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے “ ( ابن عباس ) کہتے ہیں : میں نے اس بات کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے کہا : سنو ! اللہ کی قسم ! تم یہ حدیث نہ جھوٹوں سے روایت کر رہے ہو ، اور نہ ایسوں سے جنہیں جھٹلایا گیا ہو ، البتہ سننے ( میں ) غلط فہمی ہوئی ہے ، اور قرآن میں ( ایسی بات موجود ہے ) جس سے تمہیں تسکین ہو : «ألا تزر وازرة وزر أخرى» ” کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ) فرمایا تھا : ” اللہ کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الجنائز / حدیث: 1859
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
حدیث تخریج «انظر ما قبلہ (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔