حدیث نمبر: 1843
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : جِيءَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ , فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سُجِّيَ بِثَوْبٍ ، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَكْشِفَ عَنْهُ فَنَهَانِي قَوْمِي ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُفِعَ فَلَمَّا رُفِعَ سَمِعَ صَوْتَ بَاكِيَةٍ , فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " , فَقَالُوا : هَذِهِ بِنْتُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو , قَالَ : " فَلَا تَبْكِي أَوْ فَلِمَ تَبْكِي ؟ مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ بن حرام رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` غزوہ احد کے دن میرے والد کو اس حال میں لایا گیا کہ ان کا مثلہ کیا جا چکا تھا ، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا ، اور ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا ، میں نے ان کے چہرہ سے کپڑا ہٹانا چاہا تو لوگوں نے مجھے روک دیا ، ( پھر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( اٹھانے ) کا حکم دیا ، انہیں اٹھایا گیا ، تو جب وہ اٹھائے گئے تو آپ نے کسی رونے والے کی آواز سنی تو پوچھا : ” یہ کون ہے ؟ “ تو لوگوں نے کہا : یہ عمرو کی بیٹی یا بہن ہے ، آپ نے فرمایا : ” مت روؤ “ ، یا فرمایا : ” کیوں روتی ہو ؟ جب تک انہیں اٹھایا نہیں گیا تھا فرشتے انہیں برابر سایہ کئے ہوئے تھے “ ۔