حدیث نمبر: 1840
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ " أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھوں کے بیچ بوسہ لیا ، اور آپ انتقال فرما چکے تھے ۔
حدیث نمبر: 1841
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ " أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ` ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا ، اور آپ انتقال فرما چکے تھے ۔
حدیث نمبر: 1842
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ مَعْمَرٌ , وَيُونُسُ , قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَقْبَلَ عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنُحِ حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَلَمْ يُكَلِّمِ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِبُرْدٍ حِبَرَةٍ " فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ , ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ فَبَكَى " ثُمَّ قَالَ : بِأَبِي أَنْتَ ، وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ أَبَدًا ، أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكَ فَقَدْ مِتَّهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسلمہ کہتے ہیں کہ` نے مجھے خبر دی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ ابوبکر ” سُنح “ میں واقع اپنے مکان سے ایک گھوڑے پر آئے ، اور اتر کر ( سیدھے ) مسجد میں گئے ، لوگوں سے کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ( ان کے حجرے میں ) آئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھاری دار چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک کھولا ، پھر وہ آپ پر جھکے اور آپ کا بوسہ لیا ، اور رو پڑے ، پھر کہا : میرے باپ آپ پر فدا ہوں ، اللہ کی قسم ! اللہ کبھی آپ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا ، رہی یہ موت جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر لکھ دی تھی تو یہ ہو چکی ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ”سُنح“ یہ عوالی مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے جہاں نبی حارث بن خزرج کے لوگ رہتے تھے، ابوبکر رضی الله عنہ نے انہیں میں شادی کی تھی، اور یہ رہائش گاہ ان کی اہلیہ کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہاں جانے کی اجازت دی تھی۔ ۲؎: ابوبکر رضی الله عنہ نے یہ جملہ عمر رضی الله عنہ کی تردید میں کہا تھا جو کہہ رہے تھے کہ آپ پھر دنیا میں واپس آئیں گے۔